سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 280
سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 280 (<) مولوی محمد الدین صاحب امیر جماعت احمد یہ تہال گجرات لکھتے ہیں : ”میری پہلی بیوی جو ڈاکٹر محمد احمد وسلطان احمد سلمھا اللہ تعالیٰ آف عدن کی والدہ تھیں بڑی ہی نیک خاتون تھیں۔ان کے بطن سے میرے دو بچے جن میں سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھے ایک ہی دن میں بخار اور خسرہ سے فوت ہو گئے۔اس نیک بی بی نے نہایت ہی قابل تقلید نمونہ دکھلایا اور قطعاً جزع فزع نہ کی۔بلکہ تسبیح وتحمید میں لگی رہی۔ایک طرف تو اس کی یہ حالت تھی دوسری طرف وہ بیعت بھی نہ کرتی تھیں۔’بالآخر میں نے آخری علاج یہ سوچا کہ اسے قادیان لے آیا۔دار امسیح میں ٹھہرایا۔حضرت ائم المؤمنین نے جب میری بیوی کے دو عزیز بچوں کے ایک وقت انتقال کا سنا تو آپ نے اس قدر شفقت اور محبت کا برتاؤ کیا اور اس قدر تسلی دی کہ جس سے اس کو بہت اطمینان حاصل ہوا اور وہ اپنے گھر جا کر بھی حضرت ام المؤمنین کے محبت بھرے کلمات اور پُر از محبت ملفوظات کا ذکر کرتی تھیں۔”انہوں نے بارہا کہا کہ حضرت اماں جان تو سگی والدہ سے بھی بڑھ کر سلوک کرتی ہیں۔آپ کی اس صحبت نے اور اس احسان اور شفقت نے ان کی طبیعت کو بدل دیا اور انہوں نے احمدیت کو قبول کر لیا۔یہ اماں جان کی شفقت اور ہمدردی کا ہی نتیجہ تھا“۔(۸) حضرت ام المؤمنین کی قیدیوں پر شفقت محترم جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں : غالباً و 19ء کا واقعہ ہے کہ حضرت ممدوحہ پٹیالہ تشریف لے گئیں۔حضور کی آمد سے ہر احمدی فردمرد ہو یا عورت دلی مسرت سے پُر ہو گیا اور اکثر مردوزن حضور کی خدمت کے لئے کمر بستہ نظر آتے تھے۔حضور کے چند روزہ قیام سے جماعت کو بے حد خوشی حاصل ہوئی۔انہی دنوں میں حضرت ممدوحہ نے خاکسار سے دریافت فرمایا کہ کیا یہاں کی جیل کے قیدیوں کو