سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 15
15 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا نبی اور ابوالانبیاء بن سکتا۔شعیب کی بکریاں چرانے والا نو جوان جو قانونِ فرعونی کا مجرم سمجھا گیا تھا، اپنے زمانے کا سب سے بڑا نبی ہوسکتا ہے اور بنی اسرائیل کا نجات دہندہ بن سکتا ہے۔بنی اسرائیل کے طمانچے کھانے والا مسیح جس کے منہ پر تھوکا بھی گیا تھا اور جسے ذلیل کرنے کیلئے کانٹوں کا تاج پہنایا گیا تھا۔وہ سچ سچ کا بادشاہ بن جائے گا اور اس کی سلطنت کو لوگ قیامت تک مانتے چلے جائیں گے۔تو کیوں اس زمانے کا مُرسل اور نبی ان ظاہری ناموافق حالات کا اس زمانہ کا نجات دہندہ نہیں بن سکتا ؟ ہاں تو ان نظائر اور امثلہ کے لکھنے سے میری غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب اپنی کسی خاص قدرت کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔تو وہ اس اظہار قدرت کے لئے بالکل ناموافق حالات کا ظہور عمل میں لایا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ قدرت خواہ کسی خاص مرد کو عالم وجود میں لانے والی ہو یا کسی خاص عورت کو یا کسی اور انقلاب کو۔تو ان ناموافق حالات میں سے ایک چیز پیدا ہو جاتی ہے۔جو عدم بصیرت رکھنے والوں کے لئے ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہے اور اہل بصیرت کے لئے باعث نجات۔اس زمانہ کی سب سے بڑی خاتون یعنی حضرت اُم المؤمنین، جن کا مقام حضرت مریم یا حضرت خدیجہ یا حضرت عائشہ یا ان عورتوں کی طرح ہے۔جن کو خدا تعالیٰ نے دو جہانوں میں فضیلت عظمی عطا فرمائی ہے۔حضرت ام المؤمنین اگر چہ بہت بڑے صحیح النسب سادات کے خاندان میں پیدا ہوئیں۔مگر قدرت نے آپ کے خاندان کو ایسے حالات سے گزارا کہ کبھی کوئی یہ باور نہیں کر سکتا تھا کہ جولڑ کی ایسے خاندان میں پیدا ہوئی ہے جس کی تفصیل میں آگے چل کر بیان کروں گا وہ ایک دن اس زمانہ کے نبی اور رسول کی بیوی بن کر قیامت تک کیلئے مومنوں کی ماں بن جائے گی۔حالات بالکل غیر سازگار تھے۔صد ہا حجاب اور پر دے اس راستے میں حائل تھے۔اگر نواب روشن الدولۂ رستم جنگ اگر نواب خان دوران منصور جنگ نواب قمر الدین خان وزیر اعظم سلطنت مغلیہ نواب احتشام خان داروغہ محلات شاہی زندہ ہوتے، جن کے محلات پر ہاتھی کھڑے رہتے تھے۔نوکر چاکر خدم حتم، دولت و ثروت کے دریا بہتے تھے وہ شاید حضرت ام المومنین کا رشتہ حضرت مسیح موعود سے کرنے کیلئے تیار ہی نہ ہوتے۔