سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 14 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 14

14 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مارنے والوں نے اسے مردہ جان کر پھینک دیا۔لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ یہ انسان جس پر آج زمین تنگ کی جا رہی ہے۔جو لوگوں کی نگاہ میں ذلیل اور حقیر ٹھہرایا جا رہا ہے۔اس کی لعنت ایک آگ ہے جو یہودی قوم کو دنیا و آخرت میں جہنم کی بھٹیوں میں بھسم کر دے گی اور اس کے ماننے والوں کو دنیا کی ایک ایسی سیادت اور حکومت دی جائے گی کہ صدیوں تک قوموں پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔افسوس ! ان مصیبتوں کے طوفان میں چھیڑے کھانے والا مسیح عیسی ابن مریم کسی کو اپنی درخشاں شان میں نظر نہ آتا تھا۔(۳) پھر ایک تیسرا نظارہ وادی بطحا میں ہم دیکھتے ہیں۔قوموں، ملکوں بلکہ دنیا کا نجات دہندہ شاہنشاہِ رسالت ہم کو کبھی بکریوں کے چرواہے کی شکل میں نظر آتا ہے۔اور کبھی شام کے تاجروں میں خدیجہ کا مال تجارت لیکر بیٹھا ہوا۔کبھی مکہ کی گلیوں میں آپ کی ایسی مخالفت ہوتی ہے کہ آپ کو اپنے دروازے بند کر کے محصور ہونا پڑتا ہے۔آپ کے سرمبارک کی قیمتیں ڈالی جاتی ہیں اور ہر قسم کے مظالم کا آپ کو نشانہ بننا پڑتا ہے۔حتی کہ آپ مجبور ہوتے ہیں کہ وطن کو خیر باد کہہ دیں۔یہ یتیم، غریب فاقہ زدہ غریب الوطن، مہاجر اور بظاہر مصیبتوں کے پہاڑ سر پر اٹھانے والا انسان لوگوں کو نظر نہ آتا تھا کہ یہ ہی نبیوں کا چاند ہے۔اسی پر دنیا کی رستگاری کا انحصار ہے یہی ہے وہ جس کا مقام اس قدر بلند ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک کہا گیا ہے مگر ظاہر بین آنکھوں کو یہ سب نور نظر نہ آئے۔نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ان کے لئے یہ مشکلات ایک حجاب اکبر بن کر رہ گئے۔(۴) خود اس زمانے کا راستباز احمد نبی بھی لوگوں کو نظر نہ آیا۔ان کے لئے آپ کی زمینداری آپ کی اطاعت والدین کے سلسلہ میں باوجود شدید کراہت نفس کے کچھ عرصہ کی ملازمت۔آپ کی ابتدائی زمانہ کی تنگی روک بنکر رہ گئی اور انہوں نے بلند و بالا آواز سے کہا کہ قادیان کے مغلوں میں سے جو کل ایک معمولی اہلکار تھا، کیسے خدا کا نبی اور رسول ہو سکتا ہے۔وہ بھول گئے کہ نمرود یوں کی شریعت اور قانون کی رو سے آگ میں جلایا جانے والا مجرم اگر