سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 233 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 233

233 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اے عائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔اس سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی۔پیارا رفیق اور انہیں عزیز ہے۔جو اولاد کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دُور کر نے والی اور خانہ داری کے معاملات کی متولی ہوتی ہے۔۲۵۴ اگر چہ یہ خط حضرت نواب صاحب کے نام ہے۔مگر اس میں بیوی کی حقیقت اور اس کے تعلق کی مٹھاس اور شیرینی پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔اور بتلایا ہے کہ انبیاء علیہ السلام اور خود آنحضرت ﷺ بھی اس تعلق کے محتاج تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انبیاء پر بعض اوقات غم اور فکر کے ایسے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں کہ اگر ان کو فوق القوة طاقت نہ ملی ہو تو شاید وہ ان مصائب کو اٹھا نہ سکیں۔ایک طرف وہ اپنے فرض منصبی کی نزاکت کو دیکھتے ہیں۔دوسری طرف وہ قوم کی پستی، ذلت ، ادبار، نکبت ، بداخلاقی ، عداوت، دشمنی کو دیکھتے ہیں۔ان کا دل اس حالت کو دیکھ کرخون ہو جاتا ہے۔ان کو خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ بالکل ناکام ہو جائیں گے۔اس حالت میں ان کے اندر سے عجیب عجیب قسم کے نعرے نکلتے ہیں۔کبھی وہ کہتے ہیں۔رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ المَوتی۔اے خدا تو ان مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا اور کبھی کہتے ہیں۔متی نَصْرُ اللهِ۔اے خدا! تیری نصرت کب آئے گی اور کبھی کہتے ہیں : دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار اے مرے پیارے فدا ہو ہر ذرہ میرا پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہو گا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفان سے پار ایسے وقت میں جبکہ دنیا خدا تعالیٰ کے انبیاء کو قتل و غارت کرنے کی فکر میں لگی ہوئی ہوتی ہے منصوبے اور دسائیں ،مکر اور مکاید کے جال ہر سو پھیلے ہوتے ہیں۔کبھی وہ تیغ و تفنگ سے اور کبھی فتنوں کی بھڑکتی