سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 234 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 234

234 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آگ سے وہ اندر اور باہر ہر قسم کے حیلوں بہانوں سے نقصان پہنچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اگر کوئی انسانی ہستی ان پاک وجودوں کی راحت کا باعث بن سکتی ہے اور ان کے غم کے بوجھ کو ہلکا کرسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف پاک بیوی ہی ہوسکتی ہے۔اس سے انبیاء کی پاکیزہ بیویوں کا مقام سمجھ میں آ سکتا ہے وہ ان کی رفیق اور انیس ہوتی ہیں۔وہ ان کی اولاد کی تربیت اور پرورش کی شریک غالب ہوتی ہیں۔وہ ان کے غموں کے بوجھ کو ہلکا کرنے والی ہوتی ہیں اور ان کے خانہ داری کے تمام معاملات کی متوتی ہوتی ہیں۔بلکہ میں کہوں گا کہ وہ اس تبلیغ واشاعت کے کام میں جو اس نبی کو سونپی جاتی ہے سب سے بڑی مؤید و مبلغ ہوتی ہیں۔وہ اصلاح مخلوق ، تبلیغ دین، استحکام شریعت، درس اخلاق ، ہمدردی خلائق ، الغرض نبی کی زندگی کے ہر شعبہ میں شریک ہو جاتی ہیں۔جیسے میں حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ پیش کروں گا۔جب یہ مقام کسی عورت کو حاصل ہو تو وہ کیوں سیدۃ النساء نہ کہلائے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایسی خاتون کوعورتیں تو عورتیں مردوں پر بھی ایک عظیم الشان فضیلت ہوتی ہے تو اس میں کو ئی غلطی نہ ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ وہ اُم المؤمنین کہلاتی ہے۔اس لئے کہ قوموں کو اس کے روحانی وجود سے بالکل اسی طرح روحانی غذا میسر آتی ہے جس طرح ماں کے جسمانی وجود سے بچوں کو جسمانی غذا میسر آتی ہے۔حضرت ام المؤمنین کی تو روحانی پاکیزگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ خدا تعالیٰ بہت سی باتیں آپ پر بھی اسی طرح کھول دیتا تھا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کھولا کرتا تھا۔اس سے اس مناسبت کا پتہ چلتا ہے جو آپ کی روح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح کے ساتھ تھی۔نیز اس روحانیت اور اس قلب کی طہارت کا پتہ چلتا ہے۔جس کی وجہ سے آسمانی طاقتوں کا وقتاً فوقتاً انعکاس ہوا کرتا تھا۔الغرض اُم المؤمنین کے وجود کو ایک پاکیزہ نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہے۔جس کے وجود سے آپ کو آرام ملتا تھا۔آپ کے غموں کا بوجھ ہلکا ہوتا تھا۔یہ وہ اس زمانہ کی عائشہ ہے جسے بروز محمد اَرحُنَا يَا عَائیشہ کہا کرتا تھا۔اَللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوعُودِ