سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 232 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 232

232 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لیڈی زاغلول پاشا نے کہا کہ یہ تھا سعد پاشا کا بڑے سے بڑا غصہ اور یہ ہے سعد زاغلول پاشا کی سیرت کا سب سے بڑا واقعہ جو اس کی قابل بیوی نے بیان کیا ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے اخلاق کا یہ کمال ہے کہ اسے اپنے عواطف اور اپنی غضب یا غصے کی مخفی طاقتوں پر اس قدر کنٹرول ہو۔گویا کہ وہ اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتیں۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ حضرت ام المؤمنین کا بڑا احترام کرتے تھے اور عام طور پر عورتوں کی زبان زد تھا: کہ مر جا بیوی دی بڑی گل مندا ہے بیوی کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نگاہ میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی پہلی بیگم صاحبہ ۱۸۹۵ء میں فوت ہو گئی تھیں۔حضرت اقدس نے ان کو ایک تعزیت کا خط لکھا۔جس میں بیوی کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔یہ خط آئینہ ہے ان خیالات کا جو آپ کے اندر موجزن تھے اور اس آئینہ میں ہم کو آپ کی اہلی زندگی کا پتہ ملتا ہے۔آپ نے تحریر فرمایا: در حقیقت اگر چہ بیٹے بھی پیارے ہوتے ہیں۔بھائی اور بہنیں بھی عزیز ہوتی ہیں۔لیکن میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اسرار ہوتے ہیں۔میاں بیوی ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتے ہیں۔ان کو صد ہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔بسا اوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔اس محبت اور با ہم اُنس پکڑنے کے زمانہ کو یا دکر کے کون دل ہے جو پُر آب نہیں ہو سکتا۔یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کر آخر فی الفور یاد آتا ہے۔اسی تعلق کا خدا نے بار بار ذکر کیا ہے کہ باہم محبت اور اُنس پکڑنے کا یہی تعلق ہے۔بسا اوقات اس تعلق کی برکت سے دنیوی تلخیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ انبیاء علیہ السلام بھی اس تعلق کے محتاج تھے۔جب سرور کائنات ﷺ بہت ہی غمگین ہوتے تھے۔تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے ارحنا يا عائشة- یعنی