سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 231 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 231

231 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ احترام ان خوبیوں اور نیکیوں کے سبب سے تھا جو ان میں پائی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کے باعث تھا جو ہمیشہ ان پر ہوتے رہے۔“ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کا عینی مشاہدہ حضرت میر صاحب نے میرے لئے لکھی روایات میں تحریر فرمایا: میں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضور علیہ السلام کو حضرت ام المؤمنین سے ناراض دیکھا نہ سنا۔بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک Ideal آئیڈیل جوڑے کی ہونی چاہئے۔بہت کم خاوند اپنی بیویوں کی وہ دلداری کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام حضرت اُم المؤمنین کی فرمایا کرتے تھے اور آپ کو لفظ تم سے مخاطب فرمایا کرتے تھے اور ہندوستانی میں ہی اکثر کلام کرتے تھے۔مگر شاذ و نادر پنجابی میں بھی۔حالانکہ بچوں سے اکثر پنجابی بولا کرتے تھے۔“ حضرت میر صاحب کا علم ذاتی اور عینی مشاہدے پر مبنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام شادی کے بعد ۲۵ سال تک اپنی حرم محترم کے ساتھ رہے اور اس ۲۵ سال کے عرصے میں حضرت میر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے نہ کبھی آپ کو ناراض ہوتے دیکھا اور نہ سنا۔ہمارے ملک میں ایک ضرب المثل ہے۔اکٹھے برتن بھی پڑے پڑے کبھی ایک دوسرے سے ٹکڑا جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ناممکن ہے کہ دو آدمی اکٹھے رہیں اور وہ جھگڑیں نہیں۔پھر ہم اس جوڑے کو کیا کہیں گے جو چوتھائی صدی تک اکٹھے رہے مگر ان میں کبھی ناراضگی پیدا نہ ہوئی۔میں مجبور ہوں کہ ان کو ملائكة اللہ کہوں۔جن کے سینے ہر قسم کے جھگڑوں، رنجشوں اور ناراضگیوں سے پاک ہیں۔غالبا ۱۹۳۱ ء کی بات ہے۔کہ آنریبل سر عبد القادر اور لیڈی سرعبدالقادر لنڈن سے واپسی پر قاہرہ میں اُترے۔میں ان کو لے کر ز اغلول پاشا جو مصریوں کے ایک بہت بلند پایہ لیڈر تھے کی لیڈی صاحبہ کے پاس گیا۔لیڈی زاغلول جن کو مصری ائم المصربین کہتے ہیں اپنے شوہر کی سیرت کے متعلق گفتگو کر رہی تھیں۔انہوں نے فرمایا کہ میرا شوہر اتنے اعلیٰ اخلاق کا انسان تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی نوکر کو چھڑ کا نہیں اور شدید سے شدید غصہ کی حالت میں بھی اگر کچھ کہا تو یہ کہ دیکھو تم کو ہمارے ساتھ رہتے ہوئی اتنی مدت ہو گئی ہے۔مگر تم کو اب تک اس بات کی عقل نہ آئی جس کا افسوس ہے۔