سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 224
224 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ضرورت پڑے جس سے وہ عورت ہو یا مرد ہلاک ہو جاتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ہلاک ہو جائے مگر اس چیز کو خوشی اور مسرت سے صدق دل اور شرح صدر سے قبول کرے۔جیسے حضرت اُم المؤمنین نے اپنے نمونہ سے ثابت کر دیا۔حضرت ام المؤمنین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں قبل اس کے کہ میں یہ لکھوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس نگاہ سے حضرت ام المؤمنین کو دیکھتے تھے۔پہلے میں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ گذشتہ صدی ہندوستان پر ہر لحاظ سے جہالت کی صدی تھی۔عورتوں کے ساتھ ہندوستان میں سلوک کرنا ایک قسم کا جرم سمجھا جاتا تھا۔اچھا مرد وہ سمجھا جاتا تھا جوگھر میں جب داخل ہو تو چہرے پر شکن ڈال لے اور ڈانٹ ڈپٹ ، گالی گلوچ اور عند الضرورت مار پیٹ کرتا رہے۔ایسے مرد کو مرد سمجھا جاتا تھا اور جو شخص اپنی بیوی سے ذرا سلوک کرے اُسے زن مرید خیال کیا جاتا تھا۔عورتیں صاف ستھری نہ رہ سکتی تھیں۔ان کو تعلیم نہ دی جاتی تھی اور اسے پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا۔اس طرح عورت جو دنیا کی نصف آبادی ہے وہ ذلیل اور مقہور ہو رہی تھی۔بلکہ عربوں کے زمانہ جاہلیت کے بہت سے اطوار اس زمانہ میں واپس آچکے تھے۔چونکہ انبیاء کی آمد کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر مظلوم کی حمایت کریں اور ہر اس شخص کو اس کا حق دلائیں جو اپنے حق سے محروم کر دیا گیا ہو۔اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد جو دراصل رسول کریم ﷺ کی ہی بعثت ثانیہ تھی عورتوں کے لئے بھی باعث رحمت ہوتی اور ان کو ان کے حقوق دلانے کا باعث ہوتی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔خیر کم خیر کم لاهله - اس لئے اگر آپ حضرت اُم المؤمنین سے شادی نہ کرتے تو یقیناً یہ حصہ عمل لوگوں کے سامنے نہ آتا اور عورتیں شاید اس حق سے محروم ہی رہ جاتیں مگر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس مخلوق کو چھوڑ دیتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین کے اس مبارک تعلق کی برکت اور پاکیزہ نمونہ کی وجہ سے ہزار ہا گھروں کو اپنی برکتوں سے بھر دیا اور ہزار ہا گھر جنت کا نمونہ بن گئے۔