سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 225 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 225

225 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میاں بیوی کے جھگڑوں میں سے ایک جھگڑا سب سے پہلی چیز جو میاں بیوی کے درمیان جھگڑا پیدا کرتی ہے وہ میاں کا یہ شعور ہے کہ اسے اپنی بیوی پر کوئی غیر معمولی حکومت حاصل ہے۔جس کی وجہ سے اسے حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے اس سے سلوک کرے۔اس شعور کے ماتحت اس قسم کی باتیں پیدا ہو جاتیں ہیں کہ کھانے میں نمک کیوں تیز ہو گیا۔چاول سخت کیوں رہ گئے۔یہ برتن یہاں کیوں پڑا ہے۔الغرض چھوٹی چھوٹی باتیں مرد کو جوش میں لاتیں اور غصہ دلاتی ہیں ان ساری چیزوں کے پیچھے ایک چیز کام کرتی ہے اور وہ یہ کہ مرد کو گھر پر رعب رکھنا چاہئے اور قطعا اس امر کی پرواہ نہ کی جاتی کہ یہ کوئی میری غلام تو نہیں۔یہ دائرہ انسانی سے خارج تو نہیں۔مجھے کیا حق ہے کہ میں اس طرح اس سے بدسلوکی سے پیش آؤں۔مگر یہی حالت تھی جس نے عام گھروں کی حالت بہت بُری بنا رکھی تھی اور عورتیں مردوں کے ہاتھوں سخت نالاں تھیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے گھر میں اسلامی گھر کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھا دیا۔محترمہ استانی سكينة النساء بیگم صاحبہ جو کرم قاضی اکمل صاحب کی حرم محترم ہیں اور تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور جن کو حضرت اقدس کے گھر میں بہت قریب سے حالات دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔اپنی ایک روایت میں جو انہوں نے مجھے لکھ کر دی لکھا: ایک دفعہ حضرت ائم المؤمنین فرماتی تھیں کہ میں پہلے پہل جب دتی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں۔چنانچہ میں نے بہت شوق اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گڑ ڈال دیا۔سو وہ بالکل راب سی بن گئی۔جب پتیلی چولہے سے اُتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔حیران تھی کہ اب کیا کروں۔اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔میرے چہرہ کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔آپ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا۔نہیں! یہ تو بہت اچھے ہیں۔میرے مذاق کے مطابق پکے ہیں۔ایسے زیادہ گڑ والے ہی تو مجھے پسندیدہ ہیں۔یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔