سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 223
223 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور اس پر صدائے احتجاج بلند کی۔اخبارات اور رسالوں میں مضمون لکھے۔زنانہ مردانہ انجمنوں میں لیکچر دیئے اور جن لوگوں نے اسلام کے اس رکن کے خلاف آواز اٹھائی۔ان کو انہوں نے اپنا لیڈر راہنما اور ہادی تسلیم کیا۔حالانکہ ان کو اس قدر معلوم نہ تھا کہ یورپ و امریکہ نے تو مذہب کا گلا گھونٹ کر اور اس کی لاش پر کھڑے ہو کر اباحت اور بدکاری کا دروازہ کھول کر مردوں عورتوں کو جامہ انسانی سے باہر نکال کر محض بہائم کی زندگی میں داخل کر دیا اور یہ وہ زندگی ہے۔جس کے لئے نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی شریعت مگر یہ عقل کے اندھے بھی ان بہائم طبیعت لوگوں کے پیچھے لگ گئے۔یہ سب لوگ اسلام کے دشمن ہیں اور اس اسلام دشمنی نے مسئلہ تعدد ازدواج کو ایسی بھیا نک صورت دے دی کہ یورپ کے لوگوں نے ترک یعنی مسلمان کو دنیا کا وحشی ترین انسان قرار دے دیا۔حرم یعنی عرب سرداروں کے محلات جن کی ان کے خیال میں سر بفلک دیوار میں ہر وقت آسمان سے باتیں کرتی رہتی ہیں تا کہ حرم کے اندر محبوس عورتوں کو ہوا نہ لگ سکے۔اس کے اندر ایسے قیدی رہتے ہیں جن کے پاس کبھی ہوا بھی نہیں گزرتی۔جہاں وہ عورتیں اندر ہی اندر سڑتی رہتی ہیں۔دق اور سل کے جراثیم اندر ہی اندر ان عورتوں کو ہلاک کرتے رہتے ہیں۔اس قسم کی بھیا نک تصویر ان لوگوں نے جو دشمنانِ اسلام تھے اسلام کی بنائی۔ان کو پڑھ کر یورپ کی لڑکیاں مشرق کے دور دراز کے شہروں کو عالم تصور میں دیکھتیں اور کانپ کر رہ جاتیں۔اگر خدانخواستہ کبھی کسی مسلم کا ذکر سن پاتیں تو ان کو ہسٹیریا کا دورہ شروع ہو جاتا۔اس پراپیگنڈہ سے خود مسلمان ملکوں کے مرد اور عورتیں بھی متاثر ہو کر رہیں اور انہوں نے بھی ایسے احکام کو جہالت اور وحشت قرار دیا۔اللہ اکبر ! حالت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔اس وقت اس زمانہ میں کوئی عورت نہ تھی جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔تب خدا نے اس ظلم کے خلاف عملی آواز اٹھانے کے لئے نصرت جہاں بیگم کو پیدا کیا۔جس نے اپنے عمل سے اور اپنی دعاؤں سے اسلام کے اس حکم کی سچائی اور بزرگی کو ظاہر کیا اور فرمایا: میں صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہوا اور جھوٹ کا زوال اور ابطال ہو۔“ یہ الفاظ مرقع ہیں اس قلب مطہر کے۔یہ الفاظ آئینہ ہیں ایک سچی مسلم عورت کے خیالات کے۔اور یہ فعل ماٹو ہے۔اُسوہ حسنہ ہے ہر مسلمان عورت کے لئے اگر اسلام کے لئے کسی ایسے کام کی