سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 170 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 170

170 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ زندگی سلسلہ کے لئے وقف کر دی اور بنی نوع کی خبر گیری اور بہتری کے لئے کوشاں رہے با وجود بوڑھے اور کمزور ہونے کے دین کی خدمت ، غریبوں اور ضعیفوں کی مدد کر تے رہے۔دین کے لئے چندہ وصول کرنے کے لئے ایسی ایسی جگہیں گئے جہاں ابھی تک ہمارے مبلغ بھی نہیں گئے۔آپ نے چندہ سے مسجد نور بنوائی۔جو آپ کی یادگار ہے۔پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے نور ہسپتال بنوایا جو آپ کے نام کو ہمیشہ کیلئے روشن کرتا رہے گا۔دور الضعفاء کا محلہ آباد کیا۔ہر ممکن صورت سے غریبوں کی امداد کرتے رہے اور اسی کام میں انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔یہاں تک کہ آپ کو موت آ گئی۔جس سے چارہ نہیں۔ہمیں چاہئے کہ جس طرح انہوں نے ہماری خبر گیری اور امداد میں زندگی گزاری ہے ہم بھی ان کے لئے بہت بہت دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں داخل کرے۔‘۲۶ حضرت امیر المومنین کی سفر یورپ سے واپسی ۲۴ نومبر ۱۹۲۳ء کی صبح کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اپنے قافلہ سمیت واپس تشریف لے آئے۔آپ نے تمام خدام سے ملاقات کے بعد فرمایا: میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب میں پیدل ہی قادیان جاؤں گا۔لیکن قادیان میں داخل ہونے سے پہلے میرا منشاء ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جاؤں کیونکہ وہاں جا کر دعا کرنی ہے اور میر صاحب ( یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب ) کا جنازہ بھی پڑھنا ہے مگر وہاں صرف میں اور میرے ہمرا ہی ہی جائیں گے جو میرے ساتھ سفر سے آئے ہیں۔وہاں سے کوٹ کر ہم مسجد مبارک میں نماز پڑھیں گے۔‘۲۷ چنانچہ اسی پروگرام کے ماتحت مقبرہ بہشتی میں تشریف لے گئے۔مقبرہ کے کنوئیں پر وضو کر کے پہلے اکیلے حضرت کے مزار پر جا کر دعا کی۔پھر اپنے رفقائے سفر کو بھی بلا لیا۔پھر سب نے مل کر دعا کی۔دعا کے بعد حضور نے حضرت میر ناصر نواب صاحب کی قبر پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھی۔