سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 169 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 169

پھول کھا رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی“۔۲۵ 169 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ی رو یا بالکل واضح ہے وہ درخت جو حضرت میر صاحب کی معرفت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا وہ حضرت اُم المؤمنین کا وجود مبارک ہی تھا جو ایک بڑا درخت بن گیا۔جس کے پھل اور پھول سب شریں ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اس زمانہ میں تو ایسے پاکیزہ درخت کی مثال نہیں مل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگر پیشگوئیاں جو اس بابرکت خاندان کے متعلق ہیں۔وہ اس رؤیا کی کھلی کھلی تفسیر ہیں۔الغرض حضرت میر صاحب کا مبارک وجود بذاتِ خود ایسا قیمتی وجود تھا کہ جن کو اتنی بڑی سعادت و دولت نصیب ہوئی کہ حضرت اُم المؤمنین جیسی بیٹی ملی۔یہ مرد کامل اپنی زندگی کے ایام نیکی ، تقویٰ، بھلائی مخلوق کی ہمدردی میں گزار کر ۱۹۔ستمبر ۱۹۲۴ء کو بروز جمعہ ۹ بجے صبح اپنے مولی حقیقی سے جاملا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ نماز جنازه جماعت کے ساتھ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پڑھائی کیونکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اس وقت سفر یورپ میں تھے۔خطبہ جمعہ میں حضرت مولوی صاحب نے فرمایا: مجھے ضرورت نہیں کہ میں ان کے اوصاف آپ لوگوں کے سامنے بیان کروں کیونکہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے ہم میں سے یہ خاص امتیاز اور سعادت بخشی تھی کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نسر تھے۔آپ نے اپنی زندگی مومنانہ اور متقیانہ طور پر بسر کی ہے۔ہمیشہ قال اللہ اور قال الرسول پر کار بند رہے۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ایسے عہدے کی ملازمت میں گزارا جس میں رشوتیں لی جاتی ہیں اور پھر انواع واقسام کے لالچوں کا بھی موقع تھا۔لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ بچائے رکھا اور کبھی کوئی ناجائز چیز نہ لی۔آپ بہت عرصہ حضرت مسیح موعود کے قرب میں رہے اور اپنی