سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 140 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 140

140 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سر آمد علماء پنجاب ( بزعم خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑنا پڑا۔موحدین کی جامع مسجد میں اگر اتفاقا لاہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے اور مرزا صاحب کے پاس ( جو بزعم مولوی صاحب کا فر بلکہ اکفر اور دجال ہیں ) گھر بیٹھے لاہور، امرتسر ، پشاور، کشمیر، جموں، سیالکوٹ، کپورتھلہ ، لدھیانہ، بمبئی، ممالک شمال ومغرب، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلا د سے لوگ گھر سے بور یا بندھنا باندھے چلے آتے ہیں۔پھر آنے والے بدعتی نہیں ، مشرک نہیں، جاہل نہیں ، کنگال نہیں، بلکہ موحد ، اہلحدیث ، مولوی ، مفتی، پیرزادے، شریف، امیر ، نواب، وکیل۔اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمدحسین صاحب کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مہریں لگوانے کے اللہ جل شانہ نے مرزا صاحب کو کس قدر چڑھایا اور کس قدر خلق خدا کے دلوں کو متوجہ کر دیا کہ اپنا آرام چھوڑ کر ، وطن سے جدا ہو کر، روپیہ خرچ کر کے قادیان میں آکر زمین پر سوتے ، بلکہ ریل میں ایک دورات جاگتے بھی ضرور ہونگے اور کئی پیادہ چل کر بھی حاضر ہوئے۔میں نے ایک شخص کے بھی منہ سے کسی قسم کی شکایت نہیں سنی۔مرزا صاحب کے گرد ایسے جمع ہوتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانے۔جب مرزا صاحب کچھ فرماتے تھے تو ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے۔قریباً چالیس پچاس شخص اس جلسہ پر مُرید ہوئے۔مرزا احمد بیگ کے انتقال کی پیشگوئی کے پوری ہونے کا ذکر بھی مرزا صاحب نے ساری خلقت کے رُوبرو سنایا جس کے بارے میں نورافشاں نے مرزا صاحب کو بہت کچھ بُرا بھلا کہا تھا۔اب نو را فشاں خیال کرے کہ پیشگوئیاں اس طرح پوری ہوتی ہیں۔یہ بات بجز اہل اسلام کے کسی دین والے کو آج کل حاصل نہیں اور مسلمان خصوصا مخالفین سوچیں کہ یہ خوب بات ہے کہ کافر، اکفر، دجال، مکار کی پیشگوئیاں باوجود یکہ اللہ تعالیٰ پر افتراؤں کے طومار باندھ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ پوری کر دے اور رسول اللہ صلعم کے (بزعم خود ) نائبین کی باتوں میں خاک بھی اثر نہ دے اور ان کو ایسا ذلیل کرے کہ لا ہور چھوڑ کر بٹالہ میں آنا پڑے۔افسوس صد افسوس ، آج کل کے ان مولویوں کی نا بینائی پر جو العلم حجاب الاکبر کے نیچے دبے پڑے ہیں اور بائیں وجہ ایک ایسے برگزیدہ بندہ کا نام دجال و کافر رکھتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ کو ایسی محبت ہے کہ دین کی خدمت پر مقرر کر رکھا ہے اور وہ بنده خدا آریہ، برہمو، عیسائیوں، نیچریوں سے لڑ رہا ہے۔کوئی کا فرتاب مقابلہ نہیں لا سکتا۔نہ کوئی