سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 141
141 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مولوی با وجود کا فر ملعون ، دجال بنانے کے خلقت کے دلوں کو اُن کی طرف سے ہٹا سکتا ہے۔معاذ اللہ عصاء موسیٰ و ید بیضاء کو بزعم مولویان پسپا اور رسوا کر رہا ہے۔نائبین رسول مقبول میں کوئی برکت کچھ نورانیت نہیں رہی اتنا بھی سلیقہ نہیں کہ اپنے چند شاگردوں کو بھی قابو میں رکھ سکیں اور خلق محمدی کا نمونہ دکھا کر اپنا شیفتہ بنالیں۔کسی ملک میں ہدایت پھیلانا اور مخالفین اسلام کو زیر کرنا تو در کنار ایک شہر بلکہ ایک محلہ کو بھی درست نہیں کر سکتے۔برخلاف اس کے مرزا صاحب نے شرقاً غربا مخالفین اسلام کو دعوتِ اسلام کی اور ایسا نیچا دکھایا کہ کوئی مقابل آنے جو گا نہیں رہا۔اکثر نیچریوں کو جو مولوی صاحبان سے ہر گز اصلاح پر نہیں آ سکتے۔توبہ کرائی اور پنجاب سے نیچریت کا اثر بہت کم کر دیا۔اب وہی نیچری ہیں جو مسلمان صورت بھی نہیں تھے۔مرزا صاحب کے ملنے سے مومن سیرت ہو گئے۔اہلکاروں ، تھانہ داروں نے رشوتیں لینی چھوڑ دیں۔نشہ بازوں نے نشے ترک کر دیئے۔کئی لوگوں نے حقہ تک ترک کر دیا۔مرزا صاحب کے شیعہ مریدوں نے ( یعنی چند مرید مرزا صاحب کے ایسے بھی ہیں جو پہلے شیعہ مذہب رکھتے تھے ) تمر اترک کر دیا صحابہ سے محبت کرنے لگے۔تعزیہ داری، مرثیہ خوانی موقوف کر دی۔بعض پیرزادے جو مولوی محمد حسین بٹالوی بلکہ محمد اسماعیل شہید کو بھی کافر سمجھتے تھے مرزا صاحب کے معتقد ہونے کے بعد مولانا اسماعیل شہید کو اپنا پیشوا اور بزرگ سمجھنے لگے۔اگر یہ تاثیریں، دجالین ، کذابین میں ہوتی ہیں اور نائبین رسول مقبول نیک تا شیروں سے محروم ہیں تو بصد خوشی ہمیں دجالی ہونا منظور ہے۔” پھلوں ہی سے تو درخت پہچانا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو بھی لوگوں نے صفات سے پہچانا۔ورنہ اس کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔کسی تندرست ہٹے کٹے کا نام اگر بیمار رکھ لیں تو واقعی وہ بہار نہیں ہوسکتا۔اسی طرح جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن پاکباز ہے اور جس کے دل میں اللہ اور رسول کی محبت ہے اس کو کوئی منافق کا فر ، دجال وغیرہ لقب دے تو کیا حرج ہے۔سفید کسی کے کالا کہنے سے کالانہیں ہوسکتا اور چمگادڑ کی دشمنی سے آفتاب لائق مذمت نہیں۔یزیدی عملداری سے حسینی گروہ اگر چہ تکالیف تو پا سکتا ہے مگر نا بود نہیں ہو سکتا۔رفتہ رفتہ تکالیف برداشت کر کے ترقی کرے گا اور کرتا جاتا ہے۔یعنی مولویوں کے سیدِ راہ ہونے سے مرزا صاحب کا گروہ مٹ نہیں سکتا۔بلکہ ایسا حال ہے جیسا دریا میں بند باندھنے سے در یا رک نہیں سکتا لیکن چند روز کا معلوم ہوتا ہے۔آخر بند ٹوٹے گا اور نہایت زور سے دریا بہہ نکلے گا اور آس پاس کے مخالفین کی بستیوں کو بھی بہالے جاوے گا۔آندھی اور ابر سورج کو چھپا نہیں سکتے۔خود