سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 139
139 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مولوی صاحب پر قربان کر دیں اور اپنی عزت کو مولوی صاحب کی عزت پر نثار کرنے کے لئے مستعد ہوں۔اگر مولوی صاحب یہ فرماویں کہ بچوں اور نیکوں سے لوگوں کو محبت نہیں ہوتی بلکہ جھوٹوں اور مکاروں سے لوگوں کو اُلفت ہوتی ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اصحاب و اہلبیت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی یا نہیں؟ وہ حضرت کے پورے پورے تابع تھے یا ان کو اختلاف تھا۔بہت نزدیک کی ایک بات یاد دلاتا ہوں کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جو میرے اور نیز محمد حسین صاحب کے پیرو مرشد تھے۔اُن کے مرید اُن سے کس قدر محبت رکھتے تھے اور کس قدر اُن کے تابع فرمان تھے۔سنا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک خاص مرید کو کہا کہ تم نجد واقعہ ملک عرب میں جا کر رسائل توحید مصنفہ محمد عبد الوہاب نقل کر لاؤ۔وہ مرید فور ارخصت ہوا۔ایک دم کا بھی توقف نہ کیا۔حالانکہ خرچ راہ و سواری بھی اُس کے پاس نہ تھا۔مولوی محمد حسین صاحب اگر اپنے کسی دوست کو بازار سے پیسہ دے کر دہی لانے کو فرما دیں تو شاید منظور نہ کرے اور اگر منظور کرے تو ناراض ہو کر اور شاید غیبت میں لوگوں سے گلہ بھی کرے۔بع ہیں تفاوت راه از کجا است تا یکجا یہ نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ہر صدی میں ہزاروں اولیاء ( جن پر اُن کے زمانہ میں کفر کے فتوے بھی ہوتے رہے ہیں ) گذرے ہیں اور کم و بیش اُن کے مرید اُن کے فرمانبردار اور جان نثار ہوئے ہیں۔یہ نتیجہ ہے نیکوں کی خدا کے ساتھ دلی محبت کا۔مرزا صاحب کو چونکہ سچی محبت اپنے مولا سے ہے۔اس لئے آسمان سے قبولیت اتری ہے اور رفتہ رفتہ باوجود مولویوں کی سخت مخالفت کے سعید لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی اُلفت ترقی کرتی جارہی ہے۔(اگر چہ ابوسعید صاحب خفا ہی کیوں نہ ہوں ) اب اس کے مقابل میں مولوی صاحب جو آج ما شاء اللہ آفتاب پنجاب بنے ہوئے ہیں۔اپنے حال میں غور فرما دیں کہ کس قدر سچے محب اُن کے ہیں اور اُن کے بچے دوستوں کا اندرونی کیا حال ہے؟ شروع شروع میں کہتے ہیں مولوی صاحب کبھی اچھے شخص تھے۔مگر اب تو انہیں جب جاہ اور علم وفضل کے فخر نے عرش عزت سے خاک مذلت پر گرا دیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اب مولوی صاحب غور فرما دیں کہ یہ کیا پھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب