سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 138
138 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مصروف ہیں جن کو پہلے پہل مرزا صاحب سے بندہ نے بدظن کیا تھا۔جس کے عوض میں اس دفعہ انہوں نے مجھے بہکایا اور صراط مستقیم سے جدا کر دیا۔چلو برا بر ہو گئے۔مگر مولوی صاحب ابھی درپے ہیں۔اب جو جلسہ پر مرزا صاحب نے مجھے طلب کیا تو مولوی صاحب کو بھی ایک مخبر نے خبر کر دی۔انہوں نے اپنے وکیل کی معرفت مجھے ایک خط لکھا جس میں ناصح مشفق نے مرزا صاحب کو اس قدر بُرا بھلا لکھا اور ناشائستہ الفاظ قلم سے نکالے کہ جن کا اعادہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔مولوی صاحب نے یہ بھی لحاظ نہ کیا کہ علاوہ بزرگ ہونے کے مرزا صاحب میرے کس قدر قریبی رشتہ دار ہیں۔پھر دعویٰ محبت ہے۔افسوس! اس جلسہ پر تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے جن کے چہروں سے مسلمانی نور ٹپک رہا تھا۔امیر، غریب، نواب، انجنیئر ، تھانہ دار، تحصیلدار، زمیندار، سوداگر، حکیم غرض ہر قسم کے لوگ تھے۔ہاں چند مولوی بھی تھے مگر مسکین مولوی۔مولوی کے ساتھ مسکین اور منکسر کا لفظ ، یہ مرزا صاحب کی کرامت ہے کہ مرزا صاحب سے مل کر مولوی بھی مسکین بن جاتے ہیں۔ورنہ آج کل مسکین مولوی اور بدعات سے بچنے والا صوفی ، کبریت احمر اور کیمیائے سعادت کا حکم رکھتا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب اپنے دل میں غور فرما کر دیکھیں کہ وہ کہاں تک مسکینی سے تعلق رکھتے ہیں۔ہرگز نہیں۔اُن میں اگر مسکینی ہوتی تو اس قد رفساد ہی کیوں ہوتا یہ نوبت بھی کیوں گزرتی۔اس قدر ان کے متبعین کو ان سے عداوت اور نفرت کیوں ہوتی۔اہلحدیث اکثر ان سے بیزار کیوں ہو جاتے۔اگر مولوی صاحب اس میرے بیان کو غلط خیال فرماویں تو میں انہیں پر حوالہ کرتا ہوں۔انصافا و ایمانا اپنے احباب کی فہرست تو لکھ کر چھپوا دیں کہ جو ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسا کہ مرزا صاحب کے مرید مرزا صاحب سے محبت رکھتے ہیں۔مجھے قیافہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو عنقریب ہے کہ جناب مرزا صاحب کی خاک پا کو اہل بصیرت آنکھوں میں جگہ دیں اور اکسیر سے بہتر سمجھیں اور تبرک خیال کریں۔مرزا صاحب کے سینکڑوں ایسے صادق دوست ہیں جو مرزا صاحب پر دل و جان سے قربان ہیں۔اختلاف کا تو کیا ذکر ہے۔رُو برواف تک نہیں کرتے۔سر تسلیم خم ہے، جو مزاج یار میں آئے مولوی محمد حسین صاحب زیادہ نہیں چار پانچ آدمی تو ایسے اپنے شاگرد یا دوست بتا دیں جو پوری پوری ( خدا کے واسطے ) مولوی صاحب سے محبت رکھتے ہوں اور دل و جان سے فدا ہوں اور اپنے مال کو