سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 137
137 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جماعت مسلمان تھے۔جب جوان ہوئے رسمی علم پڑھا تو دل میں بسبب مذہبی علم سے ناواقفیت اور علمائے وقت و پیرانِ زمانہ کے باعمل نہ ہونے کے شبہات پیدا ہوئے اور تسلی بخش جواب کہیں سے نہ ملنے کے باعث سے چند بار مذہب تبدیل کیا۔سنی سے شیعہ بنے۔وہاں بجز تبر ابازی اور تعزیہ سازی کچھ نظر نہ آیا۔آریہ ہوئے چند روز وہاں کا بھی مزہ چکھا مگر لطف نہ آیا۔بر ہمو سماج میں شامل ہوئے ان کا طریق اختیار کیا لیکن وہاں بھی مزا نہ پایا۔نیچری بنے لیکن اندرونی صفائی یا خدا کی محبت، کچھ نورانیت کہیں بھی نظر نہ آئی۔آخر مرزا صاحب سے ملے اور بہت بیبا کا نہ پیش آئے مگر مرزا صاحب نے لطف سے مہربانی سے کلام کیا اور ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ آخر کار اسلام پر پورے پورے جم گئے اور نمازی بھی ہو گئے۔اللہ اور رسول کے تابعدار بن گئے اب مرزا صاحب کے بڑے معتقد ہیں۔رات کو مرزا صاحب نے نواب صاحب ( نواب صاحب مالیر کوٹلہ جو اس وقت مع چند اپنے ہمراہیوں کے شریک جلسہ تھے ۱۲) کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے۔چند لوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جن کے رو برو وہ الہام پورے ہوئے۔ایک صاحب نے صبح کو بعد نماز فجر عبد اللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا جب کہ عبداللہ صاحب خیر دیبی گاؤں میں تشریف رکھتے تھے۔عبداللہ صاحب نے فرمایا ہم نے محمد حسین بٹالوی کو ایک لمبا کرتہ پہنے دیکھا اور وہ کرتہ پارہ پارہ ہو گیا۔یہ بھی عبداللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ کرتے سے مراد علم ہے۔آگے پارہ پارہ ہونے سے عقلمند خود سمجھ سکتا ہے کہ گویا علم کی پردہ دری مراد ہے جو آج کل ہورہی ہے اور معلوم نہیں کہاں تک ہوگی۔جو اللہ تعالیٰ کے ولی کو ستاتا ہے گو یا اللہ تعالیٰ سے لڑتا ہے آخر چھپڑے گا۔اب مجھے بخوبی ثابت ہوا کہ وہ لوگ بڑے بے انصاف ہیں۔جو بغیر ملاقات اور گفتگو کے مرزا صاحب کو دور سے بیٹھے دجال، کذاب بنا رہے ہیں اور ان کے کلام کے غلط معنی گھڑ رہے ہیں یا کسی دوسرے کی تعلیم کو بغیر تفتیش مان لیتے ہیں اور مرزا صاحب سے اس کی بابت تحقیق نہیں کرتے۔مرزا صاحب جو آسمانی شہر اگل رہے ہیں اس کو وہ شیطانی زہر بتاتے ہیں اور بسبب سخت قلبی اور حجاب عداوت کے دور ہی سے گلاب کو پیشاب کہتے ہیں اور عوام اپنے خواص کے تابع ہو کر اس کے کھانے پینے سے باز رہتے ہیں اور اپنا سراسر نقصان کرتے ہیں۔سب سے بڑھ کر اس عاجز کے قدیمی دوست یا پرانے مقتداء مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لوگوں کو مرزا صاحب سے ہٹانے اور نفرت دلانے میں