سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 136
136 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت میر صاحب نے اس سارے واقعہ کو خو دلکھا ہے۔چونکہ یہ تحریر بہت ہی بصیرت افروز ہے اور ممکن ہے کہ بہتوں کی راہنمائی کا باعث ہو اس لئے میں باوجود اس کے طویل ہونے کے شائع کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔”مرزا صاحب نے مجھے بھی باوجود یہ کہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں ان کا مخالف ہوں۔نہ صرف مخالف بلکہ بد گو بھی اور یہ مکر رسہ کر ر مجھ سے وقوع میں آچکا ہے۔جلسہ پر بلایا اور چند خطوط جن میں ایک رجسٹری بھی تھا بھیجے۔اگر چہ پیشتر بسبب جہالت اور مخالفت کے میرا ارادہ جانے کا نہ تھا لیکن مرزا صاحب کے بار بار لکھنے سے میرے دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی۔اگر مرزا صاحب اس قدر شفقت سے نہ لکھتے تو میں ہرگز نہ جاتا اور محروم رہتا۔مگر یہ انہیں کا حوصلہ تھا۔آج کل کے مولوی تو اپنے سگے باپ سے بھی اس شفقت اور عزت سے پیش نہیں آتے۔میں ۲۷/ تاریخ کو دو پہر سے پہلے قادیان میں پہنچا۔اُس وقت مولوی حکیم نور الدین صاحب مرزا صاحب کی تائید میں بیان کر رہے تھے اور قریب ختم کے تھے۔افسوس کہ میں نے پورا نہ سنا۔لوگوں سے سنا کہ بہت عمدہ بیان تھا۔پھر حامد شاہ صاحب نے اپنے اشعار مرزا صاحب کی صداقت اور تعریف میں پڑھے لیکن چونکہ مجھے ہنوز رغبت نہیں تھی اور میرا دل غبار آلودہ تھا۔کچھ شوق اور محبت سے نہیں سنا لیکن اشعار عمدہ تھے۔اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عنایت فرما دے۔” جب میں مرزا صاحب سے ملا اور وہ اخلاق سے پیش آئے تو میرا دل نرم ہوا۔گویا مرزا صاحب کی نظر سرمہ کی سلائی تھی جس سے غبار کدورت میرے دل کی آنکھوں سے دُور ہو گیا اور غیظ وغضب کے نزلہ کا پانی خشک ہونے لگا اور کچھ کچھ دھندلا سا مجھے حق نظر آنا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ باطنی بینائی درست ہوئی مرزا صاحب کے سوا اور کئی بھائی اس جلسہ میں ایسے تھے کہ جن کو میں حقارت اور عداوت سے دیکھتا تھا۔اب ان کو محبت اور الفت سے دیکھنے لگا اور یہ حال ہوا کہ کل اہل جلسہ میں جو مرزا صاحب کے زیادہ محب تھے وہ مجھے بھی زیادہ عزیز معلوم ہونے لگے۔بعد عصر مرزا صاحب نے کچھ بیان فرمایا جس کے سننے سے میرے تمام شبہات رفع ہو گئے اور آنکھیں کھل گئیں۔دوسرے روز صبح کے وقت ایک امرتسری وکیل صاحب (یہ بابو محکم الدین صاحب وکیل سے مراد ہے۔عرفانی ) نے اپنا عجیب قصہ سنایا۔جس سے مرزا صاحب کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ثابت ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکیل صاحب پہلے سنت