سید محموداللہ شاہ — Page 80
80 60 جذ بہ کی وجہ سے حضرت شاہ صاحب نے اپنے ساتھیوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا اور ان کی وفات سے سب متاثر نظر آتے ہیں۔میرے ذاتی تجربہ میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب سخت مخالف حالات میں حوصلہ مندی سے کام کرنے اور خندہ پیشانی سے مشکلات کو برداشت کرنے میں ایک نمونہ تھے۔انہیں یہ امتیاز حاصل تھا کہ ملاقات میں ہر شخص سے مسکراہٹ اور کھلے چہرہ سے ملتے تھے۔اگر وہ اپنے حالات یا قواعد کے ماتحت کسی ضرورت مند کی ضرورت کو پورا نہ بھی کر سکتے تب بھی اس کو اپنے پاس سے مسرور دل سے رخصت کرتے تھے۔بارہا ایسا ہوا ہے کہ ان کے پاس نفی کے سوا کوئی جواب نہ ہوتا تھا مگر اول تو وہ اس نفی کو ادا کرنے کے لئے بہترین سلیقہ اختیار فرماتے اور پھر اس کے ساتھ ایسے انداز سے مزید گفتگو کرتے کہ حاجت مند یہ محسوس کرتے ہوئے واپس آتا کہ اگر چہ میرا کام نہیں ہوسکا مگر شاہ صاحب بھی معذور ہیں۔۱۹۴۷ء کے ایام میں ۱۹۴۷ ء کے فسادات کے ایام میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب نے نہایت جرات اور حوصلہ مندی سے کام کیا تھا۔مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب آپ اپنے چند ساتھیوں سمیت ٹانگہ پر سوار ہو کر محلہ جات میں گھر بہ گھر پھر کر مستورات اور مردوں اور بچوں کو مشکلات میں صبر و حوصلہ کی تلقین کر رہے تھے۔ان کا دل دردمند تھا اور کبھی کبھی آنکھیں بھی آبدیدہ ہو جاتی تھیں۔لیکن آپ مخاطبین کو ایسے انداز سے حوصلہ کی تلقین فرماتے کہ دلوں میں ڈھارس بندھ جاتی تھی اور مایوس کن حالات کے باوجود انہیں اطمینان حاصل ہو جاتا تھا۔حضرت شاہ صاحب مرحوم میں ریا اور شہرت سے نفرت تھی اور انتہاء درجہ کی تواضع اور فروتنی پائی جاتی تھی۔انہیں دینی علوم سے گہرا لگاؤ تھا۔حافظ قرآن مجید بھی تھے۔مشرقی افریقہ کے احباب پر آپ کے پاکیزہ صحبت کا نہایت نیک اثر تھا۔حضرت شاہ صاحب مرحوم کی زندگی میں ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ خدمت دین بجالانے والے لوگوں کی دل سے قدر کرتے تھے۔