سید محموداللہ شاہ — Page 79
79 ایک کامیاب معمار دبستان احمد کا تاثرات حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بہترین اور ٹھوس کام کرنے والے خدام میں ایک نمایاں وجود تھے۔ہونہار طلباء کی تربیت ، ان کو امیدوں اور امنگوں کے ساتھ پروان چڑھانا۔ان میں قومی اور ملی ولولہ پیدا کرنا نہایت مشکل کام ہے۔اونچے اونچے محل تعمیر کرنا اور مضبوط آہنی قلعے بنانا بہت آسان ہے لیکن قوم کے بچوں کا کردار درست کرنا اور ان کی اخلاقی عمارات کو استوار کرنا بدر جہا مشکل کام ہے اس کام کیلئے بہت زیادہ صبر اور حوصلہ کی ضرورت ہے۔بہت زیادہ درد اور ہمت درکار ہے۔بہت زیادہ کاوش اور دعائیں لازمی ہیں۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تمام صفات سے متصف تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی محنت کو بار آور فر مایا اور انہیں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اعلیٰ نتائج دیکھنے کی مسرت پیدا فرمائی۔انہوں نے اپنے شاگردوں میں بلند حوصلہ اور اعلیٰ کردار پیدا کرنے میں امتیازی کامیابی حاصل کی۔اپنے ساتھ کام کرنے والے اساتذہ اور دوسرے کارکنوں سے ہمدردانہ سلوک کی وجہ سے پورا پورا تعاون حاصل کیا۔ان تمام نیک تاثیرات کا نمایاں اثر سکول کی حالت پر نظر آتا ہے۔بے شک حضرت شاہ صاحب مرحوم وفات پاگئے ہیں اور ہر پیدا ہونے والا انسان ضرور فوت ہوتا ہے۔لیکن جو نیک اثر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب نے اپنے چاہنے والوں اور ساتھیوں پر چھوڑا ہے وہ نا قابل فراموش ہے۔ان کے جنازہ کے بعد میں میں نے سکول کے ایک مددگار کارکن کو درد ناک لہجہ میں یہ واقعہ سناتے ہوئے سنا کہ جب بورڈنگ کے باورچی میاں خوشی محمد صاحب مرحوم فوت ہوئے تو حضرت شاہ صاحب زار زار رو ر ہے تھے اور کہتے تھے کہ باور چی تو ہزاروں مل جائیں گے لیکن میاں خوشی محمد صاحب ایسا وفادار اور دیانت دار کہاں ملے گا۔حضرت شاہ صاحب میں دراصل کام کرنے والے کی قدر دانی کا بہت جذبہ تھا۔اسی