سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 106 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 106

106 حضرت شاہ صاحب کی ہدایت پر چنیوٹ سے سکول کے طلباء آکر اس بابرکت اور تاریخی تقریب میں شامل ہوئے۔میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا۔میرے بھائی عطاء الرحمن ، چوہدری مبارک مصلح الدین صاحب ، چوہدری حمید اللہ صاحب (وکیل اعلیٰ تحریک جدید ) اور ڈاکٹر شفیق احمد ( جو کچھ عرصہ ملتان کے امیر رہے ) اس دور کے طلباء میں شامل ہیں۔اس طرح جھنگ کے کچھ دوست تھے۔اس زمانے کے طالب علموں کو اللہ تعالیٰ نے خدمات سلسلہ کی بڑی توفیق عطا فرمائی ہے اور اب بھی وہ خدمات بجالا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی بڑی نوازشیں کیں۔اس کی ایک وجہ ان طالب علموں کا ان بزرگوں سے تربیت حاصل کرنا ہے۔ہم چنیوٹ سے آئے تھے اور احمدنگر سے بھی جامعہ کے طالب علم اس افتتاحی تقریب میں آئے تھے۔اور مجھے بچپن کا وہ تصور یاد ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے مختلف جگہوں پر صدقہ کے طور پر بکرے قربان کئے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ چل کے جاتے اور اتنا تیز قدم تھا کہ گرد اڑتی تھی۔تو یہ بھی حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے زمانے کی بات ہے۔جب ربوہ کا افتتاح ہوا ہمارا سکول اس وقت چنیوٹ میں تھا۔میں کچھ عرصہ بعد چنیوٹ سے لاہور آ گیا۔اس کے بعد ٹی آئی کالج میں پڑھا۔پھر ائیر فورس میں چلا گیا۔اور اس کے بعد حضرت شاہ صاحب سے ملنے کا موقعہ نہ ملا۔یہ چند باتیں جو میں نے بتائی ہیں محض اللہ برکت کے حصول کی خاطر کہ ہمارے اس عظیم محسن ہیڈ ماسٹر کا ذکر خیر ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را ع تاثرات حاصل کردہ بمقام سرائے محبت ۱۴ / مارچ ۲۰۰۳ء)