سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 105 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 105

105 ہمیں جیومیٹری اور Mathematics پڑھایا کرتے تھے جبکہ ماسٹر اسد اللہ خان صاحب ہمیں جیوگرافی پڑھاتے۔بڑے نفیس آدمی تھے وہ بھی کیا اساتذہ کا ایک جمگھٹا اور ایک کہکشاں تھی۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب نے سکول میں آ کے یہ رواج دیا تھا کہ اساتذہ کرام ہوم ورک بھی دیں اور طلباء کی کاپیاں خود چیک کریں۔کاپیوں کے ڈھیر کے ڈھیر لگ جاتے اور وہ چیک ہو کے واپس آتیں۔حضرت شاہ صاحب کے زمانے میں ڈسپلن پر بہت زور تھا اور نماز کے وقت میں ( ظہر کی نماز سردیوں کے زمانے میں سکول کے اوقات میں ہوتی تھی ) اس کا بڑا خاص اہتمام کیا کرتے۔میں جب بھی ربوہ آتا ہوں بہشتی مقبرے ضرور جاتا ہوں۔جہاں دیگر بزرگان کی قبروں پہ حاضری دیتا ہوں وہاں حضرت شاہ صاحب کی قبر پہ بھی ایک خاص جذبے کے ساتھ جا کر حاضری دیتا ہوں۔حالانکہ ہم آپ کے دور میں بچے تھے ہمیں اتنا زیادہ ذاتی تعلق تو نہیں ہوسکتا۔لیکن حضرت شاہ صاحب سے اس زمانے کے بچے بھی ایک ذاتی تعلق محسوس کرتے تھے اب بھی محسوس کرتے ہیں۔بہت ہی شفیق وجود بہت ہی خوبصورت بہت ہی پارسا بہت ہی نیک انسان تھے۔قیام پاکستان جب پارٹیشن کے بعد ہم چنیوٹ میں آئے تو اس وقت بھی حضرت سید محمد اللہ شاہ صاحب کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک شاہکار دیکھنے میں آیا۔یہاں آتے ہی چنیوٹ میں سکول قائم کر دیا گیا ہوٹل کے لئے ایک بلڈنگ تھی جس میں صوفی غلام محمد صاحب رہتے تھے۔اس بلڈنگ میں جامعہ احمدیہ کی کلاسز کچھ دن غالباً ہوئی تھیں۔پھر سڑک کے کنارے ایک اور بلڈنگ ہوتی تھی اس میں دو منزلہ بلڈنگ تھی جس میں ہوٹل کے طلباء رہتے تھے۔یعنی اس دور میں بھی بورڈنگ ہاؤس اور ہوٹل کا قیام رکھا گیا تھا۔جو ایک جگہ نہیں مختلف عمارتوں میں تھا۔پھر اس میں بچوں کی نگرانی کو قائم رکھا اور جب ربوہ کی زمین خریدی گئی اور افتتاح ہوا تو حضور افتتاح کے لئے لاہور سے تشریف لائے۔وہ جگہ جہاں اب فضل عمر ہسپتال کے اندر بیت یادگار بنی ہوئی ہے۔وہاں پر خیمہ نصب کیا گیا۔حضور نے وہاں خطاب فرمایا۔اس موقعہ پر