سید محموداللہ شاہ — Page 98
98 رات سے بے ہوش تھا، جس پر نزع کا عالم طاری تھا، ہوش میں آنے لگا تو بچے کونائیر صاحب کے سپرد کیا۔یہ دعا کا ایک بہت بڑا معجزہ تھا۔آخر بچہ تندرست ہو گیا۔نائیر صاحب اُن کو بھگوان کے روپ سے یاد کیا کرتے تھے۔والد صاحب کے حالات اور اُن کی استقامت کا شاہ صاحب پر بہت اثر تھا اور آپ والد صاحب کیلئے بھی دعائیں کرتے والد صاحب سے ہمدردی رکھتے اور بے پناہ شفقت سے نوازتے۔امام مبین کا اجرا جماعت کی طرف سے (دعوت الی اللہ کے) اشتہارات کا سلسلہ ہمیشہ سے رہا ہے جس میں امام مہدی علیہ السلام کے متعلق کثرت سے ذکر ہوا کرتا۔والد صاحب اس پروگرام کے مطابق امام مبین کے عنوان سے گجراتی زبان میں اشتہار شائع کرتے رہے۔اس اشتہار میں امام الزمان، امام وقت، مہدی علیہ السلام جیسے الفاظ کے علاوہ ایک خاص بات اور بھی تھی جو اسماعیلیوں کو ناگوار گزری اور وہ ۷۳ فرقوں والی حدیث تھی کہ ایک فرقہ ناجی ( نجات یافتہ ) ہو گا۔اس فرقہ کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والا ہوگا اور اس کی مشابہت جماعت احمدیہ سے دی گئی تھی۔جبکہ وہ لوگ اپنے آپ کو امام کے تابع اور ناجی خیال کرتے ہیں۔نیروبی ایک بہت چھوٹا مگر خوبصورت شہر ہے۔یہ بالکل سنٹر میں واقع ہے۔یہاں پر تمام قوموں کی عبادت گاہیں، مندر، گوردوارے، جماعت خانه، بوہرہ مسجد وغیرہ ، کانفرنس ہال ، سینما گھر، لائبریری کلب، بڑے بڑے ہوٹل، چھوٹے موٹے کیفے ، ہندؤوں اور مسلمانوں کے سکول وغیرہ ہیں۔وہاں سیاح اس وقت بھی آتے تھے اور آج بھی آتے ہیں۔اسی وجہ سے ہماری جماعت وہاں پر اشتہارات بانٹا کرتی تھی۔آغا سلطان محمد شاہ وہاں پر آئے تھے۔اس سے پہلے بھی چند آغا خانی نوجوانوں