سید محموداللہ شاہ — Page 99
99 میں بے چینی پائی جاتی تھی۔اب انہوں نے اپنے مشنری سے سوال کئے۔جس کے جواب میں ان نوجوانوں کے لیڈر غلام حسین بیچارے کی پٹائی ہوئی۔اس کے بازو اور سر پر چوٹیں آئیں۔انہوں نے مل کر بعد میں خوب پروپیگینڈا شروع کیا۔جس کا اثر ممباسہ اور دار السلام میں بھی ہوا۔اور کئی اسماعیلیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور اہل سنت جماعت میں داخل ہو گئے۔یہ۔واقعہ غالبا ئی یا جون ۱۹۴۶ ء کا تھا۔اس کے بعد ان کے ایک اسماعیلی ٹیچر جس کو بعد میں مشنری کی پوزیشن دی گئی اس نے والد صاحب سے خط و کتابت شروع کی۔اس کا نام جمعہ پریم جی روپانی تھا۔بہت مشہور شخصیت تھی۔وہ کافی دیر تک والد صاحب کے ساتھ سوال و جواب کرتا رہا۔جب ان کے پاس کوئی چارہ نہ رہا تو انہوں نے انجمن حمایت اسلام سے امداد حاصل کی۔احمدیوں کے خلاف وہ گند جو ملاں سو سال سے اچھالتے آئے ہیں اس کا سہارا لیا۔آخر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔روپانی نے اپنی کتاب میں اس واقع کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم نے مرزائیوں کے پمفلٹ کا منہ توڑ جواب دیا مگر اس کی کوئی تفصیل نہیں دی۔اس کے معا بعد والد صاحب کو تجارت کے سلسلے میں سرکاری ٹینڈر کیلئے ممباسہ جانا پڑا۔۱۹۴۶ء میں والد صاحب حج کیلئے روانہ ہو گئے۔واپس آ کر اپنی دیرینہ خواہش کے مطابق قادیان دارالامان گئے۔وہاں کچھ دیر قیام کر کے اپنے ملک کاٹھیاواڑ سے ہوتے ہوئے ۱۹۴۷ء میں نیروبی واپس آگئے۔غالباً دو یا تین سال کے وقفہ کے بعد کمپالا کے اسماعیلیوں نے ایک خاص موقعہ پر شکوہ کیا جس کا اصل حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔اس کی شکایت مرکز تک پہنچی۔اس سلسلے میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے دو باتیں فرما ئیں وہ مجھے یاد ہیں۔پہلی یہ کہ جب آغا سلطان محمد شاہ نیروبی تشریف رکھتے تھے اس موقعہ پر اشتہار نہیں بانٹے چاہئیں تھے۔دوسری یہ کہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہونے پائے