سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 97 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 97

97 تھے۔ان کے والد کمپالہ میں ٹھیکیدار تھے اور مسلمانوں کی جماعت کے لیڈر تھے۔یہ بھی احمدیت سے سخت تعصب رکھتے تھے اور مخالفت میں پیش پیش رہتے۔انہوں نے بھی اپنے بیٹے کو احمدیت قبول کرنے کے جرم میں عاق کر دیا۔وہ بھی ہندوستان چلے گئے۔کراچی میں دل کے امراض کے سپیشلسٹ رہے۔پھر وہ امریکہ چلے گئے اور وہاں بہت ترقی حاصل کی۔تیسرے اسمعیل بوہرہ تھے۔ان کو بھی احمدیت میں داخل ہونے کی بھاری قیمت دینی پڑی۔گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا۔یہ وہ تین لڑکے تھے جو شاہ صاحب کی حلیم طبیعت سے متاثر ہوکر جماعت میں داخل ہوئے یہ شاہ صاحب کی نیکی کا نتیجہ تھا۔“ دعائیه کرشمه شاہ صاحب دُعا گواور بڑی دل آویز شخصیت کے مالک تھے۔ہر قوم میں ہر دالعزیز رہے۔عبادت گزار تھے۔قبولیت دعا بھی معجزانہ تھی۔ہماری ( بیت ) کے سامنے کرشن نائیر نام کا ایک نیک فطرت ہندور ہتا تھا۔اس کا بچہ بیمار تھا بچہ بے ہوش ہو گیا اور ڈاکٹر نے جواب دے دیا کہ زندگی کی کوئی امید نہیں۔بچے کی حالت بھی بہت بگڑ چکی تھی۔والدین بے قرار اور بے بس تھے۔اتنے میں (بیت) سے صبح کی اذان کی آواز گونجی تو نائیر صاحب نے سوچا بچہ تو جاں بلب ہے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے کیوں نہ اسے شاہ صاحب کے پاس لے چلوں کہ وہ دعا کریں۔وہ بچے کو اُٹھا کر ( بیت ) میں لے گیا۔فجر کی نماز شروع ہو چکی تھی۔وہ پیچھے بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔جب شاہ صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نائیر بچے کو اٹھائے بیٹھا ہے۔شاہ صاحب نے استفسار کیا تو نائیر نے حالت بیان کی اور دعا کی درخواست کی۔شاہ صاحب نے بچے کو ہاتھوں میں اُٹھایا اور محراب میں داخل ہو گئے۔بچے کو سامنے لٹایا اور ہاتھ پھیلا دیئے اور دیر تک اللہ میاں سے گڑ گڑائے۔کچھ وقت بعد دوران دعا وہ بچہ جو