سوانح حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام — Page 10
خدا نے تمام جہاں کی مدد کے لئے ایک مبارک اور مبشر خاندان کی بنیاد ڈالی۔۱۸۸۶ء میں بحکم الہی آپ نے ہوشیار پور میں چلہ کشی کی۔جس کے نتیجہ میں آپ کو اپنے مخلصین اور اپنے خاندان کی نسبت بھاری بشارتیں میں۔نیز مصلح موعود جیسے فرزند ارجمند کی خبر دی گئی۔جو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ کو سیدنا محمود المصلح الموعود کے نورانی وجود کی ولادت سے پوری ہوئی۔لدھیانہ میں بیعت اولی ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کا مبارک دن ہمیشہ تاریخ سلسلہ احمدیہ میں ممتاز رہے گا۔کیونکہ اس دن حضرت صوفی احمد جان لدھیانوی کے مکان واقع محلہ جدید میں پہلی بیعت ہوئی اور ۴۰ عشاق نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا۔اول المبائعین ہونے کا فخر حضرت حاجی الحرمین الشریفین مولانا حکیم نورالدین بھیروی (خلیفہ المسیح الاول) کو حاصل ہوا۔دعوی مسیحیت ۱۸۹۰ء کے آخر میں آپ پر انکشاف کیا گیا کہ "مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے اس پر ۱۸۹۱ء میں آپ نے فتح اسلام" "توضیح مرام " اور ازالہ ء اوہام " کتابیں شائع کر کے علمائے وقت پر اتمام