سوشل میڈیا (Social Media) — Page 69
کرنا، یہ چیزیں پاکیزہ نہیں رہتیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں کئی جگہ بڑی کھل کر نصیحت فرمائی ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : دو مشخصه پیکر یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہر ایک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معینہ قائم کیا اور ادب انسانیت اور پاک روشی کا طریقہ سکھلایا۔وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا قل لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ۔ذَلِكَ أَزْ لَىٰ لَهُمْ یعنی مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پر ہیز کریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا۔یعنی ان کے دل طرح طرح کے جذباتِ نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قوائے بہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایماندار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔“ ( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ 209 حاشیہ) (خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جنوری 2017ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن) ( مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3 فروری 2017ء) 69