سوچنے کی باتیں — Page 6
4 3 گردش زمانه مقابلہ میں اول آئے گا، اسے انعام دیا جائے گا۔چنانچہ میں بھی قسمت آزمائی کے طور پر چند شعر کہہ کر اس مجلس میں حاضر ہوا۔اور جب میری باری آئی تو میں نے وہ شعر سنائے۔فضل تاریخوں میں ایک واقعہ آیا ہے کہ ایک امیر شاعر ایک دن حمام میں نہانے کے لئے گیا بریکی اور اس کے بھائیوں اور اس کے باپ کو یہ شعر ایسے پسند آئے کہ انہوں نے لاکھوں اور وہاں اس نے اپنا جسم ملوانے کے لئے ایک خادم کو بلوانے کا حکم دیا۔حمام والے نے ایک روپیہ مجھے انعام میں دیا اور کئی خادم اور کئی گھوڑے اور کئی اونٹ اور چاندی اور سونے کے برتن مضبوط نوجوان اپنے نوکروں میں سے اس کا جسم ملنے کے لئے بھجوا دیا۔جب اس نے تہہ بند اور غالیچے اور قالین اور عطریات کا اتنا بڑا خزانہ میرے حوالے کیا کہ میں دیکھ کر حیران رہ گیا وغیرہ باندھ لیا اور اپنے کپڑے اتار کر حمام میں بیٹھ گیا اور خوشبودار پانی اپنے جسم پر ڈالا اور اور میں نے کہا حضور میرے گھر میں تو اس کے رکھنے کی بھی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا: کوئی خوشبودار مسالے خادم نے اس کے جسم پر ملنے شروع کئے تو اس وقت کی کیفیت اسے ایسی فکر مت کرو۔فلاں محلہ میں فلاں بڑی عمارت کو ابھی ہمارے خادموں نے تمہارے لئے خرید لطیف معلوم ہوئی کہ اس نے اپنے نفس میں موسیقی کی طرف رغبت محسوس کی اور کچھ گنگنا گنگنا لیا ہے۔اور ہمارے خادم ہی یہ سب مال اسباب اس نے محل میں ابھی ابھی پہنچا دیں گے۔کر شعر پڑھنے لگا۔جب وہ شعر پڑھ رہا تھا تو اچانک اس ملازم کی حالت متغیر ہو گئی اور اس کی اس دن سے میں امراء میں شمار ہوتا ہوں اور مجھے یہ شعر نہایت ہی پیارے ہیں کہ انہوں نے چیخ نکل گئی اور وہ بیہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔اس غسل کرنے والے نے سمجھا کہ شاید اس کو مرگی میری حالت کو بدل دیا اور تنگی سے نکال کر فراغت سے آشنا کیا۔اس غلام نے کہا جانتے ہو کہ کا دورہ ہوا ہے۔اور اس نے حمام کے افسر کو بلایا اور اس کے پاس شکایت کی کہ تم نے میرے وہ شعر جن کی وجہ سے تم اس مرتبہ کو پہنچے جس بیٹے کے لئے کہے گئے تھے۔وہ میں ہی ہوں جسم کو ملنے کے لئے ایک مجنون اور بیمار کو بھیج دیا۔اس نے معذرت کی اور کہا کہ آج تک اس جب میں نے یہ شعر تمہاری زبان سے سنے تو مجھے وہ واقعہ یاد آ گیا۔جو میں نے اپنی دائیوں نوجوان کی بیماری کا حال مجھے معلوم نہیں ہوا۔یہ تو بالکل تندرست تھا۔بہر حال وہ اسے ہوش اور کھلائیوں سے سنا ہوا تھا کہ تیری پیدائش پر ایک شاعر کو اتنا انعام دیا گیا تھا اور میں نے کہا میں لائے اور اس سے پوچھا کہ یہ کیا واقعہ ہے۔آج تک تو تم پر کبھی ایسا دورہ نہیں ہوا تھا۔کہ وہ بچہ جس کی پیدائش پر یہ انعام دیا گیا تھا اور جن شعروں کی وجہ سے انعام دیا گیا تھا وہ شعر اس نوجوان نے گھبرائی ہوئی حالت میں اس شاعر سے دریافت کیا کہ آپ نے جو شعر پڑھے آج ایک اجنبی حمام میں اس راحت و آرام سے پڑھ رہا ہے اور وہ لڑکا جس کے لئے یہ شعر تھے۔یہ آپ نے کس سے سنے ہیں اس نے کہا: میرے اپنے ہیں اور مجھے نہایت ہی محبوب ہیں۔کیونکہ میں نہایت غریب ہوتا تھا اور نان شبینہ تک کا بھی محتاج تھا۔اتفاقاً مجھے معلوم ہوا سر فضل برمکی جو ہارون الرشید کے وزراء میں سے ایک وزیر تھا اور یحیی برمکی وزیر اعظم کا بیٹا تھا اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور شاعروں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ شعر کہہ کر لائیں۔پھر جو کہے گئے تھے، ایک خادم کی حیثیت سے اس کا جسم مل رہا ہے۔اس شاعر پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ اس کو چمٹ گیا اور رونے لگا اور اس نے کہا کہ میری ساری دولت تمہارے باپ دادا کی دی ہوئی ہے اور یہ تمہاری ہی دولت ہے۔تم میرے گھر چلو۔میں خادموں کی طرح تمہاری خدمت کروں گا اور تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔اس لڑکے نے جواب دیا کہ جس www۔alislam۔org