سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 5

2 1 فن سیکھنے سے آتا ہے میں قادیان والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تیمارداری اور بیماروں کی خدمت کرنا سیکھیں۔یہاں تو یہ باتیں معمولی سمجھی جاتی ہیں لیکن یورپ میں اس کے سکھانے کے کالج ہوتے ہیں لیکن یہاں ایسی باتوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔مجھ سے ایک شخص نے مشورہ لیا کہ میں درزی کا کام سیکھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا: بہت اچھا کام ہے۔وہ باہر کام سیکھنے گیا لیکن چند ہی دن کے بعد آ گیا۔اور جب میں نے پوچھا۔اتنی جلدی کیوں واپس آگئے ہو تو کہنے لگا کہ میں کام کرنے کے گر سیکھ آیا ہوں، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح اسے پہلے کام کرنا نہیں آتا تھا۔اسی طرح پھر بھی نہ آیا۔اسی طرح میں نے کئی دفعہ بتایا ہے۔ایک شخص طب پڑھنے کے لئے ایک طبیب کے پاس گیا۔ایک دن طبیب ایک مریض کو دیکھنے گیا اور ساتھ اس کو بھی لے گیا۔مریض کو سور ہضمی کی شکایت تھی طبیب نے کہا آپ نے شاید چنے کھائے ہیں۔اس نے کہا: ہاں۔شاگرد نے دیکھا تو وہاں اس کو چنے کے دانے نظر آئے۔اس نے خیال کیا طبیب نے یہ دانے دیکھ کر ہی بیمار ہونے کا باعث سمجھا ہے۔اور بیماری کا پتہ لگانے کا گر یہی ہے جو چیز آس پاس ہو وہی بیماری کا باعث سمجھ لی جایا کرے۔یہ خیال کر کے وہ واپس اپنے وطن پہنچا اور مشہور کر دیا کہ میں طب پڑھ آیا ہوں۔ایک دفعہ ایک امیر بیمار ہوا۔اس کے ہاں اس کو بلوایا گیا۔جب گیا۔نبض دیکھنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھنا شروع کیا اتفاقاً مریض کی چار پائی کے نیچے گھوڑے کی زین پڑی تھی۔کہنے لگا: آپ نے بھی تو غضب کیا کہ زین کھائی ہے۔بھلا کوئی زمین بھی کھاتا ہے۔امیر نے کہا: یہ تو کوئی پاگل ہے اور اس کو پٹوا کے باہر نکلوا دیا۔تو تیمارداری کا بھی ایک فن ہے جو محنت سے آتا ہے اور ہر ایک کام کا یہی حال ہے کہ جب اس کے کرنے کے طریق نہ آتے ہوں۔عمدگی سے نہیں ہوسکتا۔( خطبات محمود جلد 4 صفحه ۴۳۳ بحواله الفضل ۲۴ مئی ۱۹۲۰ء) www۔alislam۔org