سوچنے کی باتیں — Page 7
6 5 ذلت کو ہم پہنچ چکے ہیں وہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔اب میں اس کے ساتھ یہ مزید ذلت نہیں خریدنا چاہتا کہ جو انعام میرے باپ نے دیا تھا وہ جا کر خود استعمال کرنا شروع کر دوں مگر چونکہ میرا را از آب کھل گیا ہے اس لئے میں اب اس جگہ بھی نہیں رہ سکتا۔اب میں کسی اور علاقہ میں نکل جاؤں گا جہاں مجھے جاننے والا کوئی نہ ہو اور کوئی محرم راز میری شکل کو دیکھ کر میرے آباء کی ذلت کو یاد نہ کرے یہ کہہ کر وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا اور نہ معلوم کہاں غائب ہو گیا۔( خطبات محمود جلد ۲ صفحہ ۲۳۶ - ۲۳۷ بحوالہ الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۵۶ء) ☆☆☆ حضرت عمرؓ سے قیصر کی درخواست حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ قیصر کے سر میں شدید درد ہوا اور باوجود ہر قسم کے علاجوں کے اسے آرام نہ آیا کسی نے اسے کہا کہ حضرت عمرؓ کو اپنے حالات لکھ کر بھجوا دوان سے تبرک کے طور پر کوئی چیز منگوا ؤ، وہ تمہارے لئے دعا بھی کریں گے اور تبرک بھی بھجوا دیں گے ان کی دعا سے تمہیں ضرور شفا حاصل ہو جائے گی۔اس نے حضرت عمر کے پاس اپنا سفیر بھیجا۔حضرت عمر نے سمجھا کہ یہ متکبر لوگ ہیں میرے پاس اس نے کہاں آنا تھا اب یہ دکھ میں مبتلا ہوا ہے تو اس نے اپنا سفیر میرے پاس بھیج دیا ہے اگر میں نے اسے کوئی اور تبرک بھیجا تو ممکن ہے وہ اسے حقیر سمجھ کر استعمال نہ کرے اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز بھجوانی چاہیے جو تبرک کا بھی کام دے اور اس کے تکبر کو بھی توڑ دے۔چنانچہ انہوں نے اپنی ایک پرانی ٹوپی جس پر جگہ جگہ داغ لگے ہوئے تھے اور جو میل کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی۔اسے تبرک کے طور پر بھجوادی۔اس نے جب یہ ٹوپی دیکھی تو اسے بہت برا لگا تو اس نے ٹوپی نہ پہنی مگر خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہیں برکت اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتی ہے اسے اتنا شدید در دسر ہوا کہ اس نے اپنے نوکروں سے کہا وہی ٹوپی لاؤ، جو عمر نے ہو بھجوائی تھی تاکہ میں اسے اپنے سر پر رکھوں چنانچہ اس نے ٹوپی پہنی اور اس کا درد جاتا رہا، چونکہ اس کو ہر آٹھویں دسویں دن سر درد ہو جایا کرتا تھا، اس لئے پھر تو اس کا یہ معمول ہو گیا کہ وہ دربار میں بیٹھتا تو وہی حضرت عمر کی میلی کچیلی ٹوپی اس نے اپنے سر پر رکھی ہوتی۔( سیر روحانی جلد ۲ صفحہ ۶۶-۶۷) www۔alislam۔org