سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 30

52 51 سردار صاحب کچھ کھا ئیں گے؟ میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص پاگل ہے۔اتنے میں ایک اور شخص کمرہ میں داخل ہو گیا۔اس پر وہ انہی سردار صاحب کو جن کو چند منٹ پہلے بڑے اعزاز سے بٹھا چکا تھا، کہنے لگا تمہیں شرم نہیں آتی کہ خود بیٹھے ہو اور اس کے لئے جگہ نہیں نکالتے۔آخر میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو اس نے بتایا کہ انہوں نے ہوں لیکن جس زمانہ کی یہ بات ہے اس زمانہ میں میں تھرڈ کلاس میں سفر کیا کرتا تھا مگر اتفاق ایسا ہوا کہ اُس دن تھرڈ کلاس میں سخت بھیڑ تھی۔میں نے سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ لے لیا۔مگر سیکنڈ کلاس کا کمرہ بھی ایسا بھرا ہوا تھا کہ بظاہر اس میں کسی اور کے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی تھی۔چھوٹا سا کمرہ تھا اور اٹھارہ ہیں آدمی اس میں بیٹھے ہوئے تھے۔بہر حال جب میں اس کمرہ میں گھسا تو ایک صاحب جو اندر بیٹھے ہوئے تھے، وہ مجھے دیکھتے ہی فوراً کھڑے ہو شراب پی ہوئی ہے۔اس پر میں اگلے سٹیشن کے آتے ہی وہاں سے کھسک گیا اور میں نے گئے اور لوگوں سے کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی کہ خود بیٹھے ہو اور یہ کھڑے ہیں۔ان کے لئے بھی جگہ بناؤ تا کہ یہ بیٹھیں۔میں نے سمجھا کہ گو میں انہیں نہیں جانتا مگر یہ میرے واقف ہوں گے۔چنانچہ ان کے زور دینے پر لوگ ادھر ادھر ہو گئے اور میرے بیٹھنے کے لئے جگہ نکل آئی۔جب میں بیٹھ گیا تو وہی صاحب کہنے لگے کہ آپ کیا کھائیں گے؟ میں نے کہا: آپ کی بڑی مہربانی ہے مگر یہ کھانے کا وقت نہیں۔میں لاہور جا رہا ہوں وہاں میرے عزیز ہیں ، وہاں سے کھانا کھالوں گا۔کہنے لگے نہیں پھر بھی کیا کھا ئیں گے؟ میں نے کہا: عرض تو کر دیا کہ کچھ نہیں۔اس پر وہ اور زیادہ اصرار کرنے لگے اور کہنے لگے۔اچھا فرمائیے کیا کھائیں گے؟ میں نے کہا: بہت بہت شکریہ میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔کہنے لگے : اچھا تو پھر فرمائیے نا کہ آپ کیا کھائیں گے؟ میں اب گھبرایا کہ یہ کیا مصیبت آگئی ہے۔اس سے پہلے میں نے کسی شرابی کو نہیں دیکھا تھا۔اس لئے میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں۔اتنے میں ایک سکھ صاحب کمرہ میں داخل ہوئے۔اس پر وہ پھر کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی کمرہ میں ایک بھلا مانس آیا ہے اور تم اس کے لئے جگہ نہیں نکالتے۔اور یہ بات کچھ ایسے رعب سے کہی کہ لوگوں نے اس کے لئے بھی جگہ نکال دی۔جب وہ سکھ صاحب بیٹھ چکے تو دومنٹ کے بعد وہ ان سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے شکر کیا کہ اس نے مجھ کو جھاڑ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔تو شراب انسانی عقل پر بالکل پرد ڈال دیتی ہے۔☆☆☆ (سیر روحانی جلد اول صفحہ ۲۴۲ - ۲۴۴ ) www۔alislam۔org