سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 31

54 53 سندرسنگھا پکوڑے کھا ئیں گا مجھے ایک لطیفہ یاد ہے۔قادیان میں جہاں آج کل صدرانجمن احمد یہ کے دفاتر ہیں اور جہاں سے ایک گلی ہمارے مکانوں کے نیچے سے گذرتی ہے، وہاں ایک دن میں اپنے مکان کے صحن میں ٹہلتا ہوا مضمون لکھ رہا تھا کہ نیچے گلی سے مجھے دو آدمیوں کی آواز آئی۔ان میں سے ایک تو گھوڑے پر سوار تھا اور دوسرا پیدل تھا جو پیدل تھا، وہ دوسرے شخص سے کہ رہا تھا کہ سندرسنگھا پکوڑے کھا ئیں گا۔میں نے سمجھا کہ آپس میں باتیں ہو رہی ہیں اور ایک شخص دوسرے سے پوچھ رہا ہے کہ تم پکوڑے کھاؤ گے؟ مگر تھوڑی دیر کے بعد مجھے پھر آواز آئی کہ سند رسنگھا پکوڑے کھائیں گا اور وہ شخص جو گھوڑے پر سوار تھا برابر آگے بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ وہ اس موڑ پر جا پہنچا جو ( بیت ) مبارک کی طرف جاتا ہے مگر وہ برابر یہی کہتا چلا گیا کہ سندر سنگھا پکوڑے کھا ئیں گا۔سندرسنگھا پکوڑے کھا ئیں گا۔آخر گھوڑے کے قدموں کی آواز غائب ہوگئی اور آدھ گھنٹہ اس پر گذر گیا مگر میں نے دیکھا کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہیں گلی میں بیٹھا ہوا یہ کہتا چلا جاتا تھا کہ سندرسنگھا پکوڑے کھائیں گا، سندرسنگھا پکوڑے کھائیں گا حالانکہ سندر سنگھ اس وقت گھر میں بیٹھا ہوا پھکے کھا رہا ہوگا۔دراصل وہ شراب کے نشہ میں تھا اور اس نشہ کی حالت میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میں اس کے ساتھ چل رہا ہوں مگر شراب کی وجہ سے اس سے چلا نہیں جاتا تھا اور عقل پر ایسا پردہ پڑا ہوا تھا کہ و ہیں دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا وہ سندر سنگھ کو پکوڑوں کی دعوت دیتا چلا جاتا تھا۔تو شراب کی کثرت کی وجہ سے ٹانگوں کی طاقت جاتی رہتی ہے، عقل زائل ہو جاتی ہے، قومی کو نقصان پہنچتا ہے اور انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔(سیر روحانی جلد اول صفحہ 247) " نجوم کی حقیقت ایک احمدی نجومی کا واقعہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے قانون کے ماتحت ہوتا ہے۔یہ خیال کہ ستاروں کی گردش سے انسان آئندہ کے حالات معلوم کر سکتا ہے۔قطعی طور پر غلط ہے اور لاہور والوں نے اس کا اندازہ بھی لگا لیا مگر مشکل یہ ہے کہ وہ لوگ جو دین سے پوری واقفیت نہیں رکھتے اس قسم کی غلط فہمیوں میں عموماً مبتلا رہتے ہیں اور نجم بھی بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ مینار کے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ستاروں کی گردش معلوم کرنے میں غلطی لگ گئی ہے۔یہی حال رمالوں، جوتشیوں اور پامسٹوں کا ہوتا ہے۔میرے پاس ایک دفعہ ایک احمدی نجومی آیا اور اس نے کہا میں آپ کو کچھ کرتب دکھانا چاہتا ہوں۔میں نے کہا میں اس کو سمجھتا تو لغوہی ہوں مگر تمہاری خواہش ہے تو دکھا دو۔اس نے کہا: میں نے یہ بات آپ سے اس لئے کہی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے یہ فخر حاصل ہو جائے کہ میں نے آپ کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔اس کے بعد اس نے کہا: آپ اپنے دل میں کوئی فارسی شعر رکھیں۔میں نے فارسی نہیں پڑھی کیونکہ ہمارے استاد یہ سمجھتے تھے کہ فارسی کی تعلیم سے عربی کو نقصان پہنچتا ہے۔گومثنوی رومی وغیرہ تو میں نے پڑھی ہیں مگر فارسی کی با قاعدہ تعلیم میں نے حاصل نہیں کی اور ایسے آدمی کو عموماً معروف شعر ہی یاد ہوتے ہیں۔بہر حال میں نے اپنے دل میں سوچا کہ کریما بخشائے برحال که هستم امیر کند ہوا し اس نے ایک کاغذ میرے سامنے رکھ دیا جس پر یہی شعر لکھا ہوا تھا اس کے بعد اس www۔alislam۔org