سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 29

50 49 مطابق اپنا دوسرا گال بھی میری طرف پھیر دو گے مگر تم تو مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے ہو۔اگر تمہاری تعلیم قابل عمل ہی نہیں تو تم وعظ کیا کرتے ہو؟ پادری اس وقت جوش کی حالت میں شراب انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے تھا اس نے زور سے اسے گھونسا مار کر کہا اس وقت تو میں تمہارے قرآن پر ہی عمل کروں گا۔انجیل پر عمل کروں گا تو تم مجھے اور مارا کرو گے۔تو ہماری شریعت میں کوئی بات ایسی نہیں جو ناممکن العمل ہو۔وہ کہتا ہے اگر تم سے کوئی شخص بدی کے ساتھ پیش آتا ہے تو تم عفو سے کام لو بشرطیکہ تم سمجھو کہ عفو سے اس کی اصلاح ہو جائے گی۔لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ عفو سے اس کے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا نہیں ہوگا بلکہ وہ اور زیادہ بدی پر دلیر ہو جائے گا تو تم اس سے انتقام بھی لے سکتے ہو۔سیر روحانی جلد اول صفحہ ۱۹۶-۱۹۷) د نیوی شراب تو عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، صحت برباد کر دیتی ہے، انسان کو خمار ہو جاتا ہے، وہ گند بکنے لگ جاتا ہے اور اس کے خیالات نا پاک اور پریشان ہو جاتے ہیں۔بے شک شراب میں کچھ فائدے بھی پائے جاتے ہیں لیکن انہی عیوب کی وجہ سے دنیا کی پچاس ساٹھ سالہ زندگی بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ شراب نہ پی۔پھر ہمیشہ کی زندگی میں اس کے استعمال کو جائز کیوں رکھا گیا اور کیا ایسا تو نہیں ہوگا کہ اس شراب کو پی کر میں اپنی عبودیت کو بھول جاؤں اس پر میں نے دیکھا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے:۔لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ (الصافات: ۴۸) غول کے معنی عربی زبان میں عقل اور بدن کی صحت کے چلے جانے اور خمار کے پیدا ہو جانے کے ہیں۔پس لَا فِيهَا غَوْلٌ کے معنی یہ ہوئے کہ اس سے عقل ضائع نہیں ہوگی ، بدن کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا اور پینے کے بعد خمار نہیں ہوگا۔یہ تین عیب ہیں جو دنیا میں شراب پینے سے پیدا ہوتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے مینا بازار کی جو شراب ملے گی اس سے نہ عقل خراب ہوگی اور نہ صحت کو کوئی نقصان پہنچے گا۔لیکن اس مینا بازار میں جو شراب ملے گی اس میں ان نقائص میں سے کوئی نقص نہیں ہوگا۔اسی طرح نزف کے معنی ہوتے ہیں ذَهَبَ عَقْلُهُ اَوْ سُكِّرَ یعنی عقل کا چلے جانا اور بہکی بہکی باتیں کرنا۔یہ بات بھی ہر شرابی میں نظر آ سکتی ہے۔خود مجھے ایک شرابی کا واقعہ یاد ہے جو میرے ساتھ پیش آیا۔اب تو میں حفاظت کے خیال سے سیکنڈ کلاس میں سفر کیا کرتا www۔alislam۔org