سوچنے کی باتیں — Page 28
48 47 ڈپٹی صاحب سے پوچھا کہ ان کی کیا تعریف ہے اس پر وہ لڑکا جسے اس کے باپ نے فاقے برداشت کر کر کے تعلیم دلائی تھی بولا کہ یہ ہمارے پہلیے ہیں یعنی ہمارے گھر کے نوکر ہیں۔اس پر باپ کو سخت غصہ آیا اور وہ کہنے لگا میں ان کا ہلیا تو نہیں ان کی والدہ کا ضرور ہوں۔اس فقرہ سے سب لوگ سمجھ گئے کہ یہ شخص ڈپٹی صاحب کا والد ہے اور انہوں نے ان کو سخت ملامت کی کہ آپ بڑے نالائق ہیں کہ اس طرح اپنے باپ کی ہتک کرتے ہیں۔تو دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ غریب رشتہ دار جب اپنے کسی امیر رشتہ دار کے ہاں جاتے ہیں تو ان کی عزت میں فرق آ جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ دیکھو سلام علیک نہ کہنا بلکہ سلام علیکم کہنا اور ان سب رشتہ داروں کی عزت کرنا جو اس کے پاس جمع کئے گئے ہوں۔پس سلام علیکم کہ کر اللہ تعالی نے ان کی عزت کو بھی قائم کر دیا۔( سیر روحانی جلد اول صفحه ۲۲۱ ۲۲۲) پادری کا ایک گال پر تھپڑ کھاکر۔۔۔چونکہ ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کی طاقتیں پیدا کی تھیں اس لئے کوئی راستہ بھی ہونا چاہئے تھا۔چنانچہ یہ راستہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کر دیا مگر یہ راستہ مشکل نہیں بلکہ فرماتا ہے ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ خدا نے مطابق فطرت تعلیم دی ہے ایسا راستہ نہیں بنایا کہ جس پر انسان چل ہی نہ سکے۔جیسے انجیل نے کہہ دیا کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے۔اب یہ تعلیم بظاہر بڑی خوش کن معلوم ہوتی ہے مگر کوئی شخص اس پر عمل نہیں کر سکتا۔مصر کا ایک لطیفہ مشہور ہے وہاں چند سال ہوئے ایک عیسائی مبلغ نے تقریریں شروع کر دیں اور لوگوں پر ان کا اثر ہونا شروع ہو گیا۔ایک پرانی طرز کا مسلمان وہاں سے جب بھی گذرتا دیکھتا کہ پادری وعظ کر رہا ہے اور مسلمان خاموشی سے سن رہے ہیں، اس نے سمجھا کہ شائد کوئی مسلمان مولوی اس کی باتوں کا جواب دے گا۔مگر وہ اس طرف متوجہ نہ ہوئے اور خود اس کی علمی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اس کے اعتراضوں کا جواب دے سکتا اس لئے وہ اندر ہی اندر کڑھتارہتا۔ایک روز خدا تعالیٰ نے اس کے دل میں جوش پیدا کر دیا اور جب پادری وعظ کرنے لگا تو اس نے زور سے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔پادری نے سمجھا کہ اگر میں نے اسکا مقابلہ نہ کیا تو یہ اور زیادہ دلیر ہو جائے گا چنانچہ اس نے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھایا۔مصری کہنے لگا: میں نے تو اپنے مذہب پر عمل کیا ہے تم اپنے مذہب پر عمل کر کے دکھا دو۔تمہاری تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گال پر تھپڑ مارے تو اس کی طرف تمہیں اپنا دوسرا گال بھی پھیر دینا چاہئے۔میں تو اس امید میں تھا کہ تم اپنے مذہب کی تعلیم کے www۔alislam۔org