سرّالخلافة — Page 92
سر الخلافة ۹۲ اردو تر جمه كلا بل هذه الصفات توجد في ہرگز نہیں بلکہ یہ صفات تو ان لوگوں میں پائی جاتی قوم آثروا الأهواء على حضرة ہیں جنہوں نے رب العزت پر اپنی خواہشات نفس العزة ، وقدموا الدنيا علی کو مقدم کیا ہوتا ہے اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دی الآخرة ، وما قدروا الله حق ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کی کما حقہ قدر نہیں کی اور (۲۹) قدره، وما استناروا من بدرہ، نہ انہوں نے اس کے بدر کامل ( محمد مصطفیٰ) کے وما كانوا مخلصين۔وإني نور سے روشنی پائی اور وہ مخلص نہیں تھے۔اور میرا عاشرت الخواص والعوام، میل جول خواص و عام سے رہا ہے۔اور میں نے ورأيت كل طبقة من الأنام، ہر طبقہ کے لوگوں کو دیکھا ہے۔لیکن میں نے تقیہ ولكني ما رأيت سيرة التقية اور حق و صداقت کو مخفی رکھنے کی سیرت صرف ان وإخفاء الحق والحقيقة إلا فی لوگوں میں دیکھی ہے جو خدائے رب العزت سے الذين لا يبالون علاقة حضرة تعلق رکھنے کی پرواہ نہیں کرتے۔اللہ کی قسم میرا العزة و والله لا ترضى نفسی نفس ایک لحظہ کے لئے بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ میں لطرفة عين أن أداهن في الدين | دین کے معاملہ میں مداہنت کروں خواہ چُھری۔ولو قطعتُ بالسكين، وكذلك میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔اسی طرح كل من هداه الله فضلا ورحما، بروه شخص جسے اللہ نے اپنے فضل ورحم سے ہدایت ہر ورزق من الإخلاص رزق دی ہو اور جسے اخلاص سے رزق حسن عطا کیا گیا ہو حسنا، فلا يرضى بالنفاق وسير کبھی نفاق اور منافقوں کے اطوار کو پسند نہ کرے المنافقين۔أما قرأت قصة قوم گا۔کیا تم نے ان لوگوں کا واقعہ نہیں پڑھا جنہوں اختاروا الموت على حياة نے مداہنت کی زندگی پر موت کو اختیار کیا اور المداهنة وما شاء وا أن يعيشوا ایک لحظہ کے لئے بھی پسند نہ کیا کہ وہ تقیہ کے طرفة عين بالتقية وقالوا ساتھ زندگی گزاریں اور وہ یہ دعا مانگتے رہے کہ