سرّالخلافة — Page 91
سر الخلافة ۹۱ اردو تر جمه ألم يعلم أن الذين يتوكلون علی کیا آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ جو لوگ قادر و توانا قدير ذى القدرة لا يؤثرون طريق ذات پر توکل کرتے ہیں وہ ایک لحظہ کے لئے بھی پر المداهنة طرفة عين ولو مداہنت کی راہ کو اہمیت نہیں دیتے خواہ وہ کتنے ہی بالكراهة، ولا يتركون الصدق مجبور ہوں اور وہ صدق کو نہیں چھوڑتے خواہ صدق ولو أحرقهم الصدق وألقاهم إلى انہیں جلا دے، اور انہیں ہلاکت میں ڈال دے، التهلكة وجعلهم عضين؟ اور انہیں پارہ پارہ کر دے۔وإن الصدق مشرب الأولياء، سچائی اولیاء کا مشرب اور اصفیاء کی علامات ومن علامات الأصفياء ، ولكن میں سے ہے۔لیکن (علی) مرتضیٰ نے اس المرتضى ترك هذه السجيّة، خصلت کو ترک کر دیا اور اپنی ذات کے لئے تقیہ ونحت لنفسه التقية، واتبع طريقا تراش لیا اور ذلیل راہ اختیار کی اور کافروں کے ذليلا، وكان يحضر فناء الكافرين آنگن میں صبح و شام حاضری دیتے رہے اور وہ بكرة وأصيلا، وكان من المادحين۔مدح سراؤں میں رہے۔کیوں نہ آپ نے نبی وهلا اقتدى بنبي الثقلين أو ثقلین کی اقتدا کی یا حسین کی شجاعت دکھائی شجاعة الحسين و اتخذ طریق اور حیلہ سازوں کا طریق اختیار کیا؟ میں اللہ کی المحتالين ؟ و أنشدك الله أهذا قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ صفات ان من صفات الذين تطهرت لوگوں کی ہوسکتی ہیں جن کے دل بزدلی اور قلوبهم من رجس الجبن مداہنت کے گند سے پاک ہوں اور جن کا والمداهنة، وأعطاهم إيمانهم ايمان دل و جان کو قوت بخشتا ہو اور جو ہر نفاق قوة الجنان والمهجة وزكوا من اور مداہنت سے پاک صاف ہوں اور وہ كل نفاق ومداهنة، وخافوا ربهم جو صرف اپنے رب سے ڈرتے ہوں۔اس وفرغوا بعده من كل خشية؟ ذات کے سوا دوسرے ہر خوف سے خالی ہوں۔