سرّالخلافة — Page 57
سر الخلافة ۵۷ اردو تر جمه وإن كنتم زعمتم يا عدا الثقافة لیکن اے تہذیب کے دشمنو! اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ أن مصداقها غيره بعد عصرہ اس خلافت کا آپ کے زمانے کے بعد آپ کے فأْتوا بفص خبره إن كنتم علاوہ کوئی اور مصداق تھا تو کوئی حتمی اور قطعی پیش صادقين۔وإن لم تفعلوا ولن خبری پیش کرو اگر تم سچے ہو لیکن اگر ایسا نہ کر سکو تفعلوا فلا تكونوا أعداء اور تم ہرگز ایسا نہ کر سکو گے تو پھر برگزیدہ لوگوں کے الأخيار، واقطعوا خصاما دشمن مت بنو اور ایسے جھگڑے کو چھوڑ دو جو شر انگیز متطائر الشرار۔وما كان ہو، اور کسی مومن کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جھگڑا لمؤمن أن يركن إلى اشتطاط کرنے میں شدت کی طرف مائل ہو۔اور راستے اللدد، ولا يدخل باب کھل جانے کے باوجود حق کے دروازے میں الحق مع انفتاح السدد داخل نہ ہو تم ایسے شخص پر کیسے لعنت کرتے ہو وكيف تلعنون رجلا أثبت جس کے دعوی کو اللہ نے ثابت کر دیا اور اس نے الله دعواه، وإذا استعدى الله سے مدد مانگی تو اللہ نے اس کی مدد کی اور اس کی ☆ فأغـداه وأرى الآياتِ العَدُواه، نصرت کے لئے نشانات دکھائے اور بداندیشوں وطَرَّ مـكـر الـمـاكـرين، وهو كى تدبیروں کو پارہ پارہ کر دیا۔اور آپ (ابوبکر) نجي الإسلام من بلاء هاض نے اسلام کو شکستہ کر دینے والی آزمائش اور جور و جفا وجور فاضَ ، وقتل الأفعى کے سیلاب سے بچایا، اور پھنکارنے والے اثر دہا النضنا، وأقام الأمن والأمان، کو ہلاک کیا۔آپ نے امن وامان قائم کیا اور اللہ وخيب كل من مان، بفضل الله رب العالمین کے فضل سے ہر دروغ گوکونا کام رب العالمين۔و نامراد کیا۔وللصديق حسنات أُخرى اور حضرت (ابوبکر) صدیق کی اور بہت سی وبركات لا تعد ولا تحصى، خوبیاں اور بے حساب وبے شمار برکتیں ہیں ورد في اقرب الموارد: استعداه: استغاثه واستنصره، يقال : استعديت على فلان الامير فأعدانى أى استعنت به عليه فأعانني عليه۔والعدوى بمعنى المعونة۔(الناشر)