سرّالخلافة — Page 52
سر الخلافة ۵۲ اردو تر جمه وما كان نبيا ولكن كانت فيه آپ نبی تو نہ تھے مگر آپ میں رسولوں کے قومی موجود قوى المرسلين، فبصدقه تھے۔آپ کے اس صدق کی وجہ سے ہی چمن اسلام عادت حديقة الإسلام إلى اپنی پوری رعنائیوں کی طرف لوٹ آیا۔اور تیروں زخرفه التام، وأخذ زينته کے صدمات کے بعد بارونق اور شاداب ہوگیا وقرته بعد صدمات السهام، اور اس کے قسم قسم کے خوشنما پھول کھلے اور اس کی وتنوعت أزاهیره و ظهرت شاخیں گردو غبار سے صاف ہو گئیں جبکہ اس سے أغصانه من القتام، وكان پہلے اس کی حالت ایسے مُردے کی سی ہوگئی تھی جس قبل ذلك كميت نُدِبَ، پر رویا جا چکا ہو اور اس کی حالت ) قحط زدہ کی سی اور وشريد جُدِبَ، وجریح مصیبت کے شکار کی سی اور ذبح کئے گئے ایسے جانور نُوبَ و ذبيح جُوبَ ، وأليم کی سی جس کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا أنواع تعب، وحريق هاجرة ہو، ہوگئی تھی۔اور (اس کی حالت) قسما قسم کی ذات لهب، ثم نجاه الله مشقتوں کے مارے ہوئے اور شدید تپش والی من جميع تلك البليات دو پہر کے جلائے ہوئے کی طرح تھی۔پھر اللہ نے واستخلصه من سائر الآفات اسے ان تمام مصائب سے نجات بخشی اور ان ساری وأيـده بـعـجـائـب التأييدات آفات سے اسے رہائی دلائی اور عجیب در عجیب حتى أم الملوك ومَلِكَ تائیدات سے اس کی مدد فرمائی۔یہاں تک کہ الرقاب، بعدما تكسر وافترش اسلام اپنی شکستگی اور خاک آلودگی کے بعد راب، فزُمّتُ السنة بادشاہوں کا امام اور گردنوں ( عوام الناس ) کا مالک المنافقين وتهلل وجه بن گیا پس منافقوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں اور المؤمنين۔وكل نفس حمدت مومنوں کے چہرے چمک اٹھے۔ہر شخص نے اپنے ربه وشكرت الصدیق رب کی تعریف اور صدیق (اکبر) کا شکر یہ ادا کیا۔