سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 259

سرّالخلافة — Page 17

سر الخلافة ۱۷ اردو تر جمه ނ ثم ألفتُ كتابين فى العربية پھر میں نے حضرت احدیت کے حکم مأمورًا من الحضرة الأحدية دو کتابیں عربی میں تالیف کیں اور میں نے کہا وقلت يا معشر الأعداء ، إن اے گروهِ دشمناں! اے بڑے بڑے دعوے كنتم من العلماء والأدباء ، کرنے والو اور ریا کارو اگر تم علماء وادباء میں فأتوا بمثلها يا ذوى الدعاوى سے ہواور (اپنے دعوئی میں) سچے ہو تو ان والرياء إن كنتم صادقين ( کتابوں ) کی مثل لاؤ اس پر وہ بھاگ گئے ففروا واختفوا كالذى اذان اور اس مقروض شخص کی طرح چھپ گئے جو خالی عند صفر اليدين، وما أفاق إلا ہاتھ ہو اور (اپنا) سیم وزرخرچ کرنے کے بعد ہی بعد إنفاق العين، فما قدر علی اُسے ہوش آئی ہو اور قرض کا طوق پہن لینے کے الأداء بـعـد التـطـوق بالدين، بعد اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہو اور اس کا قرض خواہ ولازمه مستحقه وجد فی پیچھے پڑ کر اُس سے اپنے مال کا مطالبہ کر رہا ہو تقاضى اللجين، فما كان عنده اور اس (مقروض) کے پاس جھوٹے وعدوں إلا مواعيد المين؛ كذلك کے سوا اور کچھ نہ ہو۔اس طرح اللہ تکبر کرنے يخزى الله قوما متكبرين۔والی قوم کو رسوا کرتا ہے۔والعجب أنهم مع هذا الخزى تعجب کی بات یہ ہے کہ اس قدر رسوائی ، والذلّة، وهتك الأستار والنكبة، ذلّت ، پرده دری اور نکبت کے باوجود ما رجعوا إلى التوبة والانكسار بھی انہوں نے تو بہ اور انکسار کی طرف وما اختاروا طريق الأبرار رجوع نہیں کیا اور نہ ہی ابرار واخیار والأخيار، وما صلح القلب کا طریق اختیار کیا اور نہ دلِ ماؤف درست المؤوف وما تقوضت الصفوف، ہوئے ، نہ صفوں میں انتشار پیدا ہوا ، اور نہ وما سعوا إلى الحق نادمین ہی وہ نادم ہو کر حق کی طرف دوڑ کر آئے