سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 259

سرّالخلافة — Page 16

سر الخلافة ۱۶ اردو تر جمه ورأيت أن الغاسق قد وقب، ووجه اور میں نے دیکھا کہ اندھیرا چھا گیا ہے اور راستہ المحجّة قد انتقب ، فألّفتُ كُتبا تاریک ہو گیا ہے تب میں نے دین کی تائید میں لتأييد الدين، وأترعتها من لطائف کئی کتابیں تالیف کیں اور ان کو اسرار و براہین کے 1) الأسرار والبراهين، فما انتفعوا لطيف نكات سے پر کر دیا لیکن پھر بھی انہوں نے پر بشيء من العظات بل حسبوها ان نصیحتوں سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا بلکہ انہیں من الكلم المُحفِظات، وما كانوا اشتعال انگیز باتیں خیال کیا اور وہ باز نہ آئے۔پھر منتهين۔ثم إذا رأوا أن الحجة جب انہوں نے دیکھا کہ حجت قائم ہوگئی ہے وردت، والنار المضرمة بردت اور بھڑکتی ہوئی آگ ٹھنڈی پڑ گئی ہے اور شکوک وما بقى جمرة من جمر الشبهات وشبہات کے انگاروں میں سے کوئی ایک انگارہ بھی فركنوا إلى أنواع التحقيرات باقی نہیں رہا تو پھر وہ طرح طرح کی تحقیر آمیز وقالوا من أشراط المجدّد الداعى باتوں کی طرف مائل ہوئے اور یہ کہا کہ اسلام کی إلى الإسلام، أن يكون من العلماء طرف دعوت دینے والے مجدد کی نشانیوں میں الراسخين والفضلاء الكرام، وهذا سے ایک یہ ہے کہ وہ راسخ علماء اور معزز فضلاء میں الرجل لا يعلم حرفا من العربية، سے ہوگا۔اور یہ تو ایسا شخص ہے جو عربی کا ایک ولا شيئًا من العلوم الأدبية | حرف نہیں جانتا اور نہ ہی اسے ادبی علوم سے وإنا نراه من الجاهلين، وكانوا کچھ واقفیت ہے اور ہم اسے جاہل پاتے ہیں۔اور في قولهم هذا من الصادقين وہ اپنے اس قول میں سچے بھی تھے۔پس میں فدعوت ربى أن يُعلّمني إن نے اپنے رب سے دعا کی کہ اگر اُس کی مشیت شاء، فاستجاب لي الدعاء ، ہو تو وہ مجھے (عربی ) سکھا دے۔پس اُس نے فأصبحتُ بفضله عارف ،اللسان، میری دعا قبول فرمائی اور میں اُس کے فضل سے ومليح البيان، ومن الماهرين زبان دان ، خوش بیان اور ماہر ( کلام ) ہو گیا۔