سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 259

سرّالخلافة — Page 194

سر الخلافة ۱۹۴ اردو ترجمہ۔(۲۰) وَ كَانَ بِشَوْكَتِهِ سُلَيْمَانُ وَقْتِهِ وَجُعِلَتْ لَهُ جِنَّ الْعِدَا كَالْمُسَخَّرِ اور وہ اپنی شوکت میں اپنے زمانہ کا سلیمان تھا اور دشمنوں کے جن اس کے لئے مسخر کر دئیے گئے تھے۔رَأَيْتُ جَلَالَةَ شَانِهِ فَذَكَرْتُهُ وَمَا اَمُدَحُ الْمَخْلُوقَ إِلَّا لِجَوْهَرِ میں نے اس کی بزرگ شان کو دیکھا سو اس کا ذکر کیا اور میں مخلوق کی مدح و ثناء صرف اس کی خوبی کی وجہ سے کرتا ہوں۔وَمَا إِنْ أَخَافُ الْخَلْقَ عِنْدَ نَصَاحَةٍ وَإِنَّ الْمَرَارَةَ يَلْزَمَنُ قَوْلَ مُنْذِرِ اور نصیحت کے وقت میں مخلوق سے نہیں ڈرتا اور انذار کرنے والے کی بات کو تلخی تو لازم ہی ہوتی ہے۔فَلَمَّا أَجَازَتْ حُلَلُ قَوْلِى لُدُونَةٌ وَغَارَتْ دَقَائِقُهُ كَبِنُرِ مُقَعْرِ جب میرے قول کے لباس (الفاظ ) نرمی سے تجاوز کر گئے اور ان کی باریکیاں گہرے کنوئیں کی طرح گہری ہو گئیں۔فَافْتَوُا جَمِيعًا أَنَّ كُفَرَكَ ثَابِتٌ وَقَتُلَكَ عَمَلٌ صَالِحٌ لِلْمُكَفِّرٍ تو ان سب نے فتویٰ دے دیا کہ تیرا کفر تو ثابت ہے اور ملٹر کے لئے تجھے مار ڈالنا عمل صالح ہے۔بقية الحاشية :- وانـــي بـعـثـت الـيـكـم حمید بقیہ حاشیہ:۔اور میں نے مہاجرین، انصار اور حسن عمل سے فلانا من المهاجرين والانصار والتابعین پیروی کرنے والے تابعین کے لشکر پر فلاں آدمی کو مقرر کر کے تمہاری باحســان و مـــتـــه ان لا يقاتل احدا ولا طرف بھیجا ہے اور میں نے اُسے حکم دیا ہے کہ وہ نہ تو کسی سے جنگ يــقــلـــه حتــى يــدعـوه الـى داعية الله کرے اور نہ اُسے اُس وقت تک قتل کرے جب تک وہ اللہ کے پیغام فمن استجاب له و اقر وكف و عمل کی طرف بلا نہ لے۔پھر جو اس پیغام کو قبول کر لے اور اقرار کر لے اور صــالــحـــا قـبـل مــنــه و اعـانـه علیه باز آجائے اور نیک عمل کرے تو اس سے قبول کرے اور اُس پر اُس کی و من ابى امرت ان يـقـاتـلــه علی مدد کرے۔اور جس نے انکار کیا تو میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اُس ذلك ثم لا يبقى على احد منهم سے اس بات پر جنگ کرے اور جس پر قابو پائے اُن میں سے کسی ایک قدر عليــــه وان يـحـرقـهـم بـالنار کو بھی باقی رہنے نہ دے اور یاوہ اُنہیں آگ سے جلا ڈالے اور ہر طریق ويقتلهم كلّ قتلة وان يس النساء سے انہیں قتل کرے، اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالے۔اور کسی سے والذراري ولا يقبل من احد الا اسلام سے کم کوئی چیز قبول نہ کرے۔پھر جو اُس کی اتباع کرے تو یہ اُس الاسلام فمن اتبعه فهو خير لـه ومـن کے لئے بہتر ہے اور جس نے اسے ترک کیا تو وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکے تركه فلن يعجز الله وقد امرت رسولی ان گا۔اور میں نے اپنے پیغا مبر کو حکم دیا ہے کہ وہ میرے اس خط کو تمہارے يـقـرء كتـابـي في كل مجمع لكم والداعية ہر مجمع میں پڑھ کر سنا دے۔اور اذان ہی (اسلام کا اعلان ہے پس الاذان فاذا اذن المســلــمــون فاذنوا جب مسلمان اذان دیں تو وہ بھی اذان دے دیں اور ان پر حملہ ) سے كفوا عنهم وان لم يؤذنوا عاجلوهم رُک جائیں۔اور اگر وہ اذان نہ دیں تو ان پر حملہ جلد کرو اور جب وہ اذان واذا أذنوا اســألــوهـم مـا عـليهم فان ابوا دے دیں تو جو ان پر فرائض ہیں اُن کا مطالبہ کرو اور اگر وہ انکار کریں تو عاجلوهم وان اقروا قبل منهم۔ان پر جلد حملہ کرو۔اور اگر اقرار کر لیں تو اُن سے قبول کر لیا جائے۔يسبى