سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 259

سرّالخلافة — Page 193

سر الخلافة ۱۹۳ اردو ترجمہ فَوَاهَا لَّهُ وَلِسَعْيِهِ وَلِجُهْدِهِ وَكَانَ لِدِينِ مُحَمَّدٍ خَيْرَ مِغْفَرٍ پس آفرین ہے اس پر اور اس کی کوشش اور جدوجہد پر وہ دین محمد ﷺ کے لئے بہترین خود تھا۔وَفِي وَقْتِهِ أَفْرَاسُ خَيْلِ مُحَمَّدٍ أَثَرْنَ غُبَارًا فِي بِلَادِ التَّنَصُّرِ اور اس کے عہد میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شاہسواروں کے گھوڑوں نے عیسائیوں کے ملک میں غبار اُڑائی۔وَكَسَّرَ كِسْرَى عَسْكَرُ الدِّينِ شَوْكَةً فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ غَيْرُ صُورِ التَّصَوُّرِ اور دین کے لشکر نے کسری کو شوکت کے لحاظ سے توڑ ڈالا پس ان (اکا سرہ) میں سے خیالی صورتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔بقية الحاشية: مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ بقیہ حاشیہ: مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ۔وَمَنْ الْمُهْتَدِ۔وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَهُ وَلِيًّا يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا لے اور اُس کا دنیا میں مرشدًا ولم يُقبل منه في الدنيا عمل حتى کیا ہوا کوئی عمل اُس وقت تک قبول نہ کیا جائے گا جب تک وہ اس يقر به ولم يقبل منه في الأخرة صرف ولا ( دین اسلام) کا اقرار نہ کر لے۔اور نہ ہی آخرت میں اُس کی طرف عدل و قد بلغنى رجوع من رجع منكم عن سے کوئی معاوضہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا۔اور مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم دينه بعد ان اقر بالاسلام و عمل به اغترارا بالله میں سے بعض نے اسلام کا اقرار کرنے اور اُس پر عمل کرنے کے بعد اللہ وجهالة بامره واجابة للشيطان قال الله تعالٰی تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہوئے اور اس کے معاملہ میں جہالت برتتے ہوئے وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَتِّبِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا اور شیطان کی بات مانتے ہوئے اپنے دین سے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔إِلَّا إِبْلِيْسَ كَانَ مِنَ الْجِنْ فَفَسَقَ عَنْ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَبِكَةِ اسْجُدُوا أَمْرِ رَبِّهِ۔اَفَتَتَخِذُونَهُ وَذُزِيَّتَةً اَوْلِيَاءَ لِأدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ عَنْ أَمْرِرَيْهِ - أَفَتَتَخِذُونَهُ وَذَرِيَّتَةً أَوْلِيَاء مِنْ لِلظَّلِمِينَ بَدَلًا وقال اِنَّ الشَّيْطنَ لَكُمْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِسَ لِلظَّلِمِينَ بَدَلًا يز عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُوا فرمايا: إِنَّ الشَّيْطَنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا - حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحُبِ السَّعِيرِ إِنَّمَا يَدْعُوا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحُبِ السَّعِيرِ ل جسے اللہ ( ہدایت کا راستہ دکھائے وہی ہدایت پر ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کرے اس کا تو ( کبھی ) کوئی دوست ( اور ) راہنما نہیں پائے گا۔(الکھف: ۱۸) (اور (اُس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ تم آدم کے ساتھ (مل کر ) سجدہ کرو۔اس پر انہوں نے ( تو اس حکم کے مطابق اس کے ساتھ ہو کر ) سجدہ کیا۔مگر ابلیس نے (نہ کیا ) وہ جنوں میں سے تھا سو اُس نے (اپنی فطرت کے مطابق) اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔(اے میرے بندو!) کیا تم مجھے چھوڑ کر اس (شیطان) کو اور اس کی نسل کو (اپنے) دوست بناتے ہو۔حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور وہ (شیطان) ظالموں کے لئے بہت ہی بُر ابدلہ ثابت ہوا ہے۔(الکھف: ۵۱) یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے۔پس اسے دشمن ہی بنائے رکھو۔وہ اپنے گروہ کو محض اس لئے بلاتا ہے تا کہ وہ بھڑکتی آگ میں پڑنے والوں میں سے ہو جائیں۔(فاطر: ۷ )