سرّالخلافة — Page 157
سر الخلافة ۱۵۷ اردو تر جمه وما بقى في معناه شك ولا ريب مومنوں کے لئے اس کے معنی میں کوئی شک وشبہ للمؤمنين۔وهل يستوى المتشابهات باقی نہیں رہا۔کیا متشابہات اور بینات و محکمات والبينات والمحكمات؟ كلا۔لا برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔یہ کبھی برابر نہیں ہو تستوى أبدا، ولا يتبع المتشابهات سکتے۔نیز متشابہات کی وہی شخص پیروی کرتا ہے إلا الذي في قلبه مرض وليس جس کے دل میں بیماری ہو اور پاک بازوں میں من المطهرين۔فالتوفّی لفظ محکم سے نہ ہو۔پس لفظ توفی محکمات میں سے ہے قد صرح معناه وظهر أنه الإماتة جس کے معنوں کی صراحت ہو چکی ہے اور یہ ظاہر لا سواه، و النزول لفظ متشابہ ہو گیا کہ اس لفظ کے معنی وفات دینے کے ہیں اس ۵۰ ما توجّه إلى تفسيره خاتم کے سوا کچھ بھی نہیں۔اور نزول کا لفظ متشابہات الأنبياء، بل استعمله فی میں سے ہے۔جس کی تفسیر کی جانب خاتم الانبیاء المسافرين۔ومع ذلك إن كنتَ نے توجہ نہیں فرمائی بلکہ اسے مسافروں کے معنی میں يصعب عليك ذكرُ مجدد آخر استعمال فرمایا ہے۔اس کے باوجود اگر جن وانس الزمان باسم عیسی فی احادیث کے نبی ﷺ کی احادیث میں مجد د آخر الزمان کا نبي الإنس ونبي الجان ويغلب ذکر عیسی کے نام کے ساتھ گراں گزرے اور عليك الوهم عند تعمیم اس کے معنوں کی عمومیت کے وقت و ہم تجھ پر المعنى، فاعلم أن اسم عیسی غالب آجائے تو جان لے کہ بہت سے علماء کبار جاء في بعض الآثار بمعان وسيعة کے نزدیک بعض احادیث میں جو عیسی کا نام عند العلماء الكبار، وكفاك آیا ہے وہ وسیع تر معنوں میں آیا ہے اور تیرے حدیث ذکرہ البخاری فیلئے تو وہ حدیث ہی کافی ہے جس کا امام بخاری صحيحه مع تشريحه من العلامة نے اپنی صحیح میں ذکر فرمایا ہے اور جس کی الزمخشرى و کمال تصریحه تشریح اور کمال تصریح علامہ زمخشری نے کی ہے