سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 259

سرّالخلافة — Page 156

سر الخلافة ۱۵۶ اردو ترجمہ لمناسبة كانت في آرائهم، اس مناسبت کی وجہ سے جو اُن کے خیالات میں وسماهم بتسمية أسلافهم موجود تھی اور انہیں اُن کے اسلاف کا نام دے دیا وجعلهم ورثاء أوصافهم، وكذلك اور اُنہیں اُن کے اوصاف کا وارث قرار دیا۔اور استمرت سنة ربّ العالمين۔رب العالمین اللہ کی سنت اسی طرح جاری ہے۔وإن كنت تزعم كالجهلة أن اور اگر جاہلوں کی طرح تو یہ خیال کرتا ہے کہ المراد من نزول عیسی نزول نزول عیسی سے مراد فی الحقیقت عیسی علیہ السلام عيسى عليه السلام فی الحقیقة کا نزول ہے تو یہ معاملہ تیرے لئے مشکل ہو۔فيعسر عليك الأمر و تخطئ خطأ جائے گا اور یہ طریق اختیار کر کے تو بہت بڑی كبيرا في الطريقة، فإن توفّى غلطی کرے گا۔کیونکہ (حضرت) عیسی کی عیسی ثابت بنص القرآن، ومعنى وفات نص قرآن سے ثابت ہے اور توفی التوفّى قد انكشف من تفسير نبی کے معنی بلا شبہ جن وانس کے نبی (ع) کی الإنس ونبي الجان، ولا مجال تفسیر سے کھل چکے ہیں۔اور اس بیان میں کسی للتأويل في هذا البیان، فالنزول تاویل کی گنجائش نہیں۔پس لفظ نزول جس کی الذي ما فسره خاتم النبيين بمعنى خاتم النبیین نے ایسے معنی میں تفسیر نہیں فرمائی جو يفيـد الـقـطـع واليقين بل جاء قطعیت اور یقین کا فائدہ دے بلکہ قرآن اور إطلاقه على معان مختلفة في فخرِ رسل کی احادیث میں مختلف معانی پر اس | القرآن وفی آثار فخر کا اطلاق ہوا ہے۔( تو پھر ) وہ اُس لفظ توفی المرسلين، كيف يعارض لفظ کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے جس کے معنی واضح التوفي الذي قد حصحص معناہ ہو چکے اور جو نبی (اکرم ) اور ابن عباس کے وظهر بقول النبي و ابن العباس قول سے ظاہر ہیں کہ (توفی) اِمَاتَتْ یعنی أنه الإماتة وليس ما سواه؟ وفات دینا ہے۔اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔