سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 259

سرّالخلافة — Page 155

سر الخلافة ۱۵۵ اردو تر جمه وما أغرق آل فرعون أمام أعين اور نہ ہی آل فرعون کو ان شریروں کی آنکھوں کے تلك الأشرار، وما كانوا سامنے غرق کیا۔اور نہ ہی وہ ان خطرات کے وقت موجودين عند تلك الأخطار، وہاں موجود تھے۔نہ اُنہوں نے بچھڑے کو معبود وما اتخذوا العجل وما كانوا بنایا اور نہ ہی وہ اُس موقع پر حاضر تھے۔اور نہ ہی في ذلك الوقت حاضرین، انہوں نے یہ کہا کہ اے موسیٰ ! ہم تجھ پر ہرگز ایمان وما قالوا يا موسى لن نؤمن نہیں لائیں گے، یہاں تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں حتى نرى الله جهرة بل ما كان کے سامنے نہ دیکھ لیں۔بلکہ موسیٰ کے زمانے میں لهم في زمان موسى أثرًا تو اِن کا نشان اور ذکر تک نہ تھا۔وہ تو (بالکل) وتذكرة ، وكانوا معدومين۔معدوم تھے۔پھر کس طرح کڑکتی بجلی نے ان کو فكيف أخذتهم الصاعقة، پکڑلیا۔اور کس طرح وہ موت کے بعد اُٹھائے وكيف بعثوا من بعد الموت گئے۔اور موت سے الگ ہو گئے اور کیسے اللہ نے وفارقوا الحمام ؟ وكيف ظلل اُن پر بادلوں کا سایہ کیا۔اور کس طرح انہوں نے الله عليهم الغمام؟ وكيف مَن اور سلویٰ کھایا۔اور اللہ نے انہیں مصیبت أكلوا المن والسلوى، ونجاهم سے رہائی بخشی حالانکہ وہ موجود ہی نہ تھے؟ بلکہ وہ الله من البلوى، وما كانوا لمى صدیوں اور بہت دور دراز زمانے کے بعد موجودين، بل ولدوا بعد قرون پیدا ہوئے۔اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان متطاولة وأزمنة بعيدة مبعدة دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتی اور اللہ ایک آدمی کا ولا تزر وازرة وزر أخرى، والله دوسرے آدمی کی جگہ مؤاخذہ نہیں کرتا۔کیونکہ وہ لا يأخذ رجلا مكان رجل سب عدل کرنے والوں سے بڑھ کر عدل وهو أعدل العادلين۔فالسر فيه کرنے والا ہے۔اس میں بھید یہ ہے کہ اللہ نے أن الله أقامهم مقام آبائهم اُنہیں اُن کے باپ دادوں کا قائمقام بنایا۔