سرّالخلافة — Page 148
سر الخلافة ۱۴۸ اردو تر جمه ويجد فيهم ظلما وفسادا اور وہ ان میں ظلم اور بہت بڑا فساد اور غلو اور تباہ کن كبيرًا، وعُلوا وضلالا مُبيرا، گمراہی پاتا ہے اور ان کے دلوں کو دیکھتا ہے کہ وہ ویری قلوبھم قد مُلِئَت ظلم اور جھوٹ اور فتنے اور شر سے بھر گئے ہیں تب ظلما وزورا وفتنا وشرورًا، اس کا دل بے چین ہوجاتا ہے، جان بیقرار ہوتی فيضجر قلبه، وتقلق مهجته ہے اور روح اور طبیعت مضطرب ہو جاتی ہے اور وتضطر روحه ، و قریحته چاہتا ہے کہ نزول فرما ہو کر اپنی قوم کی اصلاح ويعشو أن ينزل ويُصلح کرے اور دلیل کے ساتھ انہیں لا جواب کرے قومه ويُـفـحـمهم دليلا، لیکن وہ اُس کی طرف کوئی راہ نہیں پاتا۔تب اللہ فلا يجد إليه سبيلا، فيُدركه کی تدبیر اس کی دستگیری کرتی ہے اور اُسے تدبيـــر الـحـق ويـجـعـلـه من کامیاب ہونے والوں میں سے بنادیتی ہے اور الفائزين۔ويخلق الله اللہ اس کا ایسا مثیل پیدا کر دیتا ہے جس کا دل اُس مثيلا له يشابه قلبه قلبہ کے دل اور جس کا جو ہر اُس کے جوہر کے مشابہ وجوهره جوهره ، ويُنزِل ہوتا ہے اور جس ( وفات یافتہ نبی ) کا وہ مثیل إرادات الممثل به على ہے اُس کے ارادوں کو (اس) مثیل پر نازل المثيل، فيفرح الممثل بہ کرتا ہے۔جس پر مُمثل بِہ اس راہ کے آسان بتيشر هذا السبيل، ويحسب ہونے کی وجہ سے خوش ہو جاتا ہے اور وہ اپنے نفسه من النازلين، ويتيقن آپ کو نازل ہونے والا سمجھتا ہے اور اسے پورا بتيقن تام قطعى أنه نزل قطعی یقین ہو جاتا ہے کہ وہ خود اپنی قوم میں بقومه، وفاز برومه، فلا يبقى نازل ہوا ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا له هم بعده ويكون ہے لہذا اس کے بعد اُسے کوئی غم نہیں رہتا اور وہ خوش باش ہو جاتا ہے۔من المستبشرين۔