سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 259

سرّالخلافة — Page 147

سر الخلافة ۱۴۷ اردو تر جمه فالذين سعدوا أو شقوا يُشابه پھر سعادت مند یا بد بخت لوگ ایک دوسرے کے بعضهم بعضا، فیزیدون تشابها مشابہ ہونے لگتے ہیں۔اور دن بدن اس مشابہت يوما فيوما ، حتى يُظَنّ أنهم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک ہی شيء واحد، كذلك جرت سمجھتے جاتے ہیں۔احسن الخالقین اللہ کی یہی سنت سنة أحسن الخالقين۔وإليه جاریہ ہے اور اسی کی جانب خدائے عزوجل يشير عزّ وجلّ بقوله تَشَابَهَتْ اپنے قول تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ لے میں اشارہ قُلُوبُهُم فليتفكر من أُعطى فرماتا ہے۔لہذا ہر اُس شخص کو جسے غور و فکر کرنے (۴۷) قوى المتفكرين۔والوں کے قومی دیئے گئے ہیں غور کرنا چاہیئے۔اور وقد يزيد على هذا التشابه اور کبھی بزرگ و توانا خدا کے اذن سے اس شيء آخر بإذن الله الذي هو مشابہت پر کوئی اور چیز بھی زیادہ ہو جاتی ہے أكبر وأقدر ، وهو أنه قد يفسد اور وه يه كهہ کسی نبی کی امت انتہائی درجہ تک بگڑ أُمة نبى غاية الفساد، ويفتحون جاتی ہے اور وہ اپنے اوپر ارتداد کے دروازے على أنفسهم أبواب الارتداد کھول لیتے ہیں۔تب اللہ کی مصلحتیں و تقتضى مصالح الله وحكمه حکمتیں تقاضا کرتی ہیں کہ وہ انہیں عذاب نہ أن لا يعذبهم ولا يُهلكهم بل دے اور نہ ہی ہلاک کرے۔بلکہ وہ انہیں يدعو إلى الحق ويرحم وهو حق كى طرف بلاتا اور رحم فرماتا ہے اور وہ أرحم الرّاحمين۔فيفتح الله ارحم الراحمین ہے۔پھر اللہ اس وفات یافتہ نبی عين نبى متوفى كان أُرسل إلى كى آنکھ کھولتا ہے جو اس قوم کی طرف بھیجا تلك القوم فیصرف نظرہ گیا تھا۔پھر وہ اُن کی طرف اپنی نگاہ مبذول إليهم كأنه استيقظ من النوم کرتا ہے۔گویا وہ ابھی نیند سے بیدار ہوا ہے ے ان کے دل آپس میں مشابہ ہو گئے۔(البقرۃ: ۱۱۹)