سلسلہ احمدیہ — Page 72
72 شہداء دور خلافت رابعه تاریخ انبیاء اس بات پر شاہد ہے کہ بسا اوقات خدا کے مامورین و مرسلین پر ایمان لانے والوں کو ان کے معاندین و مکذبین کی طرف سے اس قدر شدید مخالفتوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں اپنے خون دے کر اور اپنی جانیں قربان کر کے اپنے ایمان کی صداقت پر گواہی دینی پڑی۔اس پہلو سے سید المرسلین، خاتم النعمین حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی قربانیوں اور شہادتوں کی تاریخ نہایت ارفع اور روشن اور دلگد از تاریخ ہے۔اسی سنت انبیاء کے مطابق اس زمانہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کامل اور عاشق صادق اور آپ کے موعود مہدی ومسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے متبعین کو بھی سخت اذیتوں اور ابتلاؤں سے گزرنا پڑا۔چنانچہ بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مرزا غلام احمدقادیانی علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں ہی شہادتوں کی بنیاد بھی پڑی۔حضور علیہ السلام نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو جلیل القدر صحابہ حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب اور حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کا ذکر اپنی تصنیف متذکرۃ الشہادتین میں بڑے ہی دلگداز انداز میں فرمایا۔ہر دو شہدائے کرام کے واقعات ہائلہ پڑھ کر انسان لرز جاتا ہے کہ انہیں کس بیدردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔دوسری طرف ان شہداء کی غیر معمولی استقامت و ثابت قدمی انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈالتی ہے۔میں ان ابتدائی شہادتوں کی تفصیل جاننے کے لئے کتاب تذکرۃ الشہادتین کا مطالعہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔حضور علیہ السلام نے ان شہداء کے ذکر میں ایک مقام پر فرمایا:۔۔۔ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔اے عبداللطیف ! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تونے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جولوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔“ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 60) یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد