سلسلہ احمدیہ — Page 71
71 کم ہے اور اسی نے ساری مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔اگر پاکستان کو عدل نصیب ہو جائے تو پاکستانی قوم دنیا کی کسی قوم سے پیچھے نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ صف اول کی قوموں میں غیر معمولی چمکنے والی قوم بن سکتی ہے۔مگر بہر حال بنگلہ دیش کی جو خاص خوبی مجھے دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں عدل پایا جاتا ہے۔پنجابی کے مقابل پر بہت زیادہ عدل مزاج لوگ ہیں۔پس ساری قوم نے بڑا ہی عمدہ رز عمل دکھایا ہے۔اتنی کھلم کھلا اور اتنی زور کے ساتھ جماعت احمدیہ کی تائید ہوتی ہے اور اکثریت کے رہنما ہونے کے دعویدار علماء کو مجرم گردانا گیا ہے اور کھلم کھلا کہا گیا ہے کہ تم دھو کے باز ہو تم نے ظلم کیا ہے۔تم نے قرآن کی بے عزتی کی تم نے اسلام کی بے عزتی کی تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔جب بابری مسجد والا واقعہ ہوا ہے تو بعض اخباروں نے بڑے سخت اداریے لکھے ہیں کہ اے ملاں ! تو بابری مسجد کو روتا ہے۔4 بخشی بازار میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے ساتھ کل تونے کیا کیا تھا؟ مجھے حق کیا ہے کہ کسی اور مسجد کی بربادی پر کسی قسم کا احتجاج کرے؟ تو ساری قوم نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ قیام عدل کا جو نمونہ دکھایا ہے اُس سے میرا دل بنگلہ دیش کے لئے بہت راضی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی اس قوم پر فضل فرمائے گا۔اور جہاں جماعت پر فضل فرمائے گا، بنگالیوں پر بالعموم بھی فضل فرمائے گا۔خدا کرے کہ ان کی سیاست اُن کو عدل پر قائم رہنے دے۔۔۔۔اے اہل بنگالہ میں تمہیں مبارکباد دیتا ہوں۔تم نے جس طرح میرے دل کو راضی کیا میری دعا ہے کہ اس سے ان گنت زیادہ خدا کا دل تم سے راضی ہو اور خدا تعالیٰ جب کسی کو نصیب ہو جائے تو اُسے دنیا بھی عطا ہو گئی اور آخرت بھی ہو گئی۔آمین خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع " 12 فروری 1993ء۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 136:120) اس کے علاوہ بلغاریہ، مصر، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، قازاقستان، قرغزستان، ملائشیا، فلسطین، سعودی عرب، سنگاپور، تھائی لینڈ ٹرینیڈاڈ، ہالینڈ، ناروے اور یو کے میں بھی احمدیوں کے خلاف ظلم و زیادتی کے بعض واقعات منظر عام پر آئے اور حکومت پاکستان کی شرانگیزی اور پشت پناہی کے نتیجہ میں پاکستان سے باہر کے ممالک میں بھی احمد یہ مساجد، مشن ہاؤسز اور جماعتی املاک کو نقصان پہنچانے کی مذموم کارروائیاں کی گئیں۔