سلسلہ احمدیہ — Page 794
794 فی الواقعہ مسلم ٹی وی کہا جاسکے۔اگر یہ سعادت حاصل ہوتی ہے تو دنیوی لحاظ سے ایک نہایت کمزور اور غریب جماعت کو جس کے پاس نہ تو کوئی معدنی خزائن ہیں، نہ تیل کی دولت، نہ حکومت اور اقتدار۔لیکن وہ اس خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے۔اور اس نے اس جماعت کو اس لئے قائم فرمایا ہے کہ تاساری نوع انسانی کو دین محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر جمع کر کے امتِ واحدہ میں تبدیل کرے۔سو اس نے محض اپنے فضل سے اور اپنی تقدیر خاص سے عالمگیر مسلم ٹیلی ویژن کے اجراء کی توفیق اس جماعت کو عطا فرمائی اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا۔قرآن و حدیث میں اور اُمت مسلمہ کے صلحاء و بزرگان کی پیشگوئیوں میں بڑی صراحت سے ایسے اشارے موجود ہیں کہ مسیح موعود و امام مہدی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ ایسے سامان مہیا فرمائے گا جن سے کام لے کر وہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کریں گے۔مثلاً بحار الانوار میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ : ایک منادی آسمان سے آواز دے گا جسے ایک نوجوان لڑکی پردے میں رہتے ہوئے بھی سنے گی اور اہل مشرق و مغرب بھی سنیں گے۔“ (بحار الانوار جلد 52 صفحہ 285 راز ملامحمد باقر مجلسی۔دارا احیاء التراث العربی بیروت) حضرت امام باقر ( وفات 114 ھ ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے امام قائم جب مبعوث ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے گروہ کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کو بڑھا دے گا یہاں تک کہ یوں محسوس ہوگا کہ امام قائم اور ان کے درمیان فاصلہ ایک برید ( یعنی ایک سٹیشن کے برابر رہ گیا ہے۔چنانچہ جب وہ امام ان سے بات کریں گے تو وہ انہیں سنیں گے اور ساتھ دیکھیں گے جبکہ امام اپنی جگہ ہی ٹھہرا رہے گا۔“ بحار الانوار جلد 52 صفحہ 236) حضرت امام جعفر صادق (وفات 148ھ) کی پیشگوئیوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ مومن جو امام قائم کے زمانہ میں مشرق میں ہو گا اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مغرب میں ہو گا۔اور اسی طرح جو مغرب میں ہو گا وہ اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مشرق میں ہوگا۔(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 391)